کراچی تا پشاور ٹریک ڈبل ہونے کے بعد مسافربردارٹرینوں کی سپیڈ 160، مال بردار ٹرینوں کی 120کلومیٹرفی گھنٹہ تک بڑھ جائے گی

ایم ایل ون پر 32 ٹرینوں کی تعداداور گنجائش 173تک بڑھ جائے گی

بدھ مئی 16:43

کراچی تا پشاور ٹریک ڈبل ہونے کے بعد مسافربردارٹرینوں کی سپیڈ 160، مال ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے مختلف منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ بعض منصوبوں پر جلد کام شروع کردیا جائے گا۔ چینی ماہرین کے ساتھ کراچی سے پشاورتک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کی تفصیلات طے کرلی گئی ہیں جس کے تحت پورے ٹریک کو ڈبل کردیاجائے گا۔ذرائع کے مطابق مسافربردارٹرینوں کی سپیڈکم ازکم110 کلومیٹرفی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ 160کلومیٹرفی گھنٹہ تک بڑھادی جائے گی جبکہ مال بردارگاڑیوں کی رفتار 120کلومیٹرفی گھنٹہ ہوجائے گی۔

ایم ایل ون پر جہاں اس وقت 32 ٹرینیں چل رہی ہیں ان کی تعداداور گنجائش 173تک بڑھ جائے گی۔ ٹریک کی اپ گریڈیشن کرتے ہوئے 2655کلومیٹرطویل ٹریک کو اپ گریڈ، 364کلومیٹرٹریک کو اوور ہال اور814کلومیٹرطویل ٹریک کو مکمل نیا تیارکیاجائے گا۔

(جاری ہے)

اپ گریڈیشن کو دومرحلوں میں مکمل کیاجائے گااور2700پل،550خم اور11ٹنل کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اپ گریڈیشن کے اس منصوبے میں کمپیوٹرائزڈانٹرلاکنگ سسٹم، آٹوبلاک سگنلنگ، آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن، ایڈوانس روڈوارننگ اورسنٹرلائزڈٹریفک کنٹرول کے جدیدنظام بھی شامل ہیں۔

سی پیک کے تحت چینی ماہرین کراچی سے حیدرآبادتک موجودہ ٹریک کی اوورہالنگ کرتے ہوئے اس سیکشن میں سپیڈ160کلومیٹرفی گھنٹہ کرنے کے علاوہ ایک متبادل ٹریک بھی بچھائیں گے۔ اپ گریڈیشن کے فیز ون میں ہی ملتان سے لاہور،، پشاور سے راولپنڈی، کالووال سے پنڈورا، نواب شاہ سے روہڑی اور ریلوے والٹن اکیڈیمی کی بھی اپ گریڈ یشن ہوگی۔موجودہ حکومت نے ریلوے کو ترقی یافتہ ادارہ بنانے کے لئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات کئے ہیں۔

اور بہت سے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔جبکہ بعض منصوبے جلد شروع کئے جائیں گے۔۔ریلوے اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارھے ہیں۔اور ریلوے اسٹیشنوں اور ریل گاڑیوں کی حالت زار بھی بہتر بنائی جارھی ہے۔ان تمام اقدامات کا مقصد مسافروں کو بہتر اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔دریں اثناء وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ئ کے مالی سال کے بجٹ میں ریلوے ڈویڑن کے لئے 40 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

ریلوے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 27ارب 75کروڑ 30لاکھ مختص کئے گئے ہیں جبکہ نئے منصوبوں کے لئے 12ارب 24کروڑ 60لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔خانیوال سے رائیونڈ تک ریلوے ٹریک کو دو رویہ کرنے کے لئے 1ارب20کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ مین لائن ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن ، حویلیاں میں نئے ڈرائی پورٹ اور کارگو کی سہولت فراہم کرنے کے لئے 3ارب56کروڑ 99لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔75لوکوموٹوخریدنے کے لئے 7 ارب روپے مختص کئے گئی ہیں۔