سندھ پورے ملک کی بجلی بحران کا خاتمہ کرنے اورتوانائی برآمد کی صلاحیت رکھتا ہے، مراد علی شاہ

توانائی کے حصول کیلئے دستیاب وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے توانائی بحران سے نمٹا جاسکتا ہے، وزیراعلی سندھ کا تقریب سے خطاب

بدھ مئی 17:22

سندھ پورے ملک کی بجلی بحران کا خاتمہ کرنے اورتوانائی برآمد کی صلاحیت ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ توانائی کے حصول کیلئے دستیاب وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے توانائی بحران سے نمٹا جاسکتا ہے، محترمہ بے نظیر بھٹو کی توانائی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 6 سینٹی فی یونٹ ریٹ تھا ، فیصلہ عوام کرے کہ بجلی مہنگی کس در کی ہے۔ ملک کو اندھیرے میں مبتلا کرکے سیاست کے نظر کردیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو میریٹ ہوٹل میں منعقد جھمپیر ونڈ پاور پلانٹ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ جھمپیر ونڈ پاور پلانٹ 50 میگاواٹ کا ہے اور یہ ایک رینیوبل انرجی کا مرکز بنتا جا رہا ہے جسکے لیے انھوں نے وزیراعظم پاکستان کو خاطر میں لائے تھے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ بننے کے بعد اس سلسلے میں وزیراعظم سے ملاقات کرکے انھیں بتایا کہ گرڈ میں ہمیں زیادہ جگہ درکار ہے لہذہ اگر وفاقی حکومت ساتھ دے تو حکومت کی مدت ختم ہونے تک 1000 میگاواٹ رینیوبل انرجی سے توانائی پیدا کیا جاسکتا ہے، اور میرا کیا ہوا وعدہ پورا ہونے کو ہے،اس پاور پلانٹ کے ذریعے رینیوبل انرجی سے ہم 930 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں اور سال کے آخر تک مزید 12 میگاواٹ توانائی پیداوار کا ہدف بھی پورا ہوجائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ توانائی بحران کا خاتمہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہمیں ونڈ، سولر، گیس، بیگس اور کوئلے جیسے معدنی وسائل پر بھروسا کریں گے ، اس وقت سندھ حکومت امپورٹڈ گیس اور فرنش آئل پر بجلی پیدا کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاور پالیسی دی تھی تو بڑی تنقید ہورہی تھی حالانکہ ا س وقت 6 سینٹی فی یونٹ کلو والٹیج ریٹ رکھا گیا، جسکو مہنگی بجلی کہا گیا، عوام الخاص فیصلہ کرے کیا یہ ریٹ مہنگے ہیں انھوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کی زد میں لیتے ہوئے کہا کہ بجلی کو بھی سیاست کی نظر کردیا گیا جس کی باعٹ ملک اندھیروں میں مبتلا ہے،توانائی بحران سے صنعت کا پہیہ جام ہوگیا ہے، کیا یہ ترقی آپ چاہتے تھی انھوں نے شرکا کو بتایا کہ مجھے آج وزیراعلی سندھ بنے 21 ماہ2 دن ہوئے ہیں اس قلیل مدت میں مسلسل توانائی منصوبوں کو مکمل کرانے کے لیے کوششیں کیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ پورے ملک کی بجلی بحران کا خاتمہ کرنے اور برآمد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپنے تقریر کے آخری کلمات میں کہا کہالیکشن کمیشن کے منع ہونے کے باعث بجلی منصوبے کا افتتاح نہیں کرسکا۔