عوام کی صحت بزنس کمیونٹی کی ترجیح ہے،غیر ضروری پابندیوں سے صنعتی ترقی کی راہ روکنے سے گریز کیا جائے،میاں زاہد حسین

بدھ مئی 17:30

عوام کی صحت بزنس کمیونٹی کی ترجیح ہے،غیر ضروری پابندیوں سے صنعتی ترقی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سیStyrofoamپیکیجینگ پر پابندی عائد کرنے کی خبروں نے پلاسٹک مینوفیکچرنگ اور اس صنعت سے وابستہ دیگر شعبوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔

میاں زاہد حسین نے پلاسٹک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے وفد اور بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر Styrofoamپیکجینگ مٹیریل پر پابندی عائد کرنے کی خبروں کو پلاسٹک مینوفیکچرنگ کی صنعت سے وابستہ کاروباری حلقے تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔صرف پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سے 100سے زائد کمپنیاں وابستہ ہیں جن سے ہزاروں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اگر PFAسٹیروفوم پیکیجنگ مٹیریل پر پابندی عائد کردیتی ہے تو نہ صرف ہزاروں افراد روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھیںگے بلکہ اس صنعت کو شدید دھچکا لگنے کی صورت میں ملکی معیشت کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پی ایف اے کا لوگوں کی صحت کے اعتبار سے قانون سازی کرنا اور صحت کو ترجیحی بنیاد پر اہمیت دینا قابل تحسین ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت کے ذریعے اس مسئلے کا فوری اور قابل عمل حل تجویز کیا جائے۔

اس سلسلے میں پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے اپنی تجاویز حکومت اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کو ارسال کی ہیں، جنکی روشنی میں مجوزہ قانون سازی کی جائے اور اس بڑی صنعت کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ میاں زاہد حسین نے اس سلسلے میں تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک اور دیگر مٹیریل کے ویسٹ مینجمنٹ کے لئے باقاعدہ اور فوری قانون سازی کی جائے جو کئی طرح کی امراض کا اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔

پیکیجنگ مٹیریل کا باقاعدہ ٹیسٹ کروایا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا یہ مٹیریل صحت کے لئے نقصان دہ ہے بھی یا نہیں۔ اس قسم کی پابندیوں سے نہ صرف پیکیجنگ مٹیریل بنانے والے متاثر ہونگے بلکہ ان مٹیریلز کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے والے بھی شدید متاثر ہونگے۔ ہسپتال، اسکول، کالجز، یونیورسٹیز کے کیفے ٹیریا، سفر کرنے والے افراد ، ریستوران، فوڈ چینز اور دیگر متعلقہ کاروبار متاثر ہونگے۔ میاں زاہد حسین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا کہ عوام کی صحت بزنس کمیونٹی کی بھی ترجیح ہے مگر کسی بھی صنعت یا اس سے وابستہ ذیلی شعبوں کو روکا نہ جائے اور اگر مصنوعات صحت کی رو سے مضر نہ ہوں تو بے جا پابندیوں سے صنعتی ترقی کی راہ روکنے سے گریز کیا جائے۔