کمرشل امپورٹرز نے نئے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ

مسترد کردیا، ملک گیر احتجاج کی دھمکی درآمدی سطح پر 6فیصد ٹیکس کو کم ازکم قرار دینا ،دوبارہ آڈٹ نامنظور،،صنعتوں کے برابرٹیکس ریلیف دیاجائے،عارف لاکھانی ْغیررجسٹرڈ افراد پرسیلز ٹیکس 3فیصد کرنے سے فلائنگ انوائس کارجحان بڑھے گا،چیئرمین پی سی ڈی ایم اے کراچی چیمبردرآمدی شعبے کوٹیکسوں کے بوجھ تلے تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے،عارف لاکھانی

بدھ مئی 19:16

کمرشل امپورٹرز نے نئے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن( پی سی ڈی ایم اے ) نے وفاقی بجٹ برائے 2018-19میں کمرشل امپورٹرز کو نظر انداز کرنے اورٹیکسوں میں اضافے پر شدید مایوسی کااظہار کیا ہے۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے محمد عارف لاکھانی نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کو مستر د کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی )سے تعاون طلب کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ کے سی سی آئی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو کمرشل امپورٹرز کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے درآمدی شعبے کوٹیکسوں کے بوجھ تلے تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

پی سی ڈی ایم اے کے ہنگامی بجٹ اجلاس میں وائس چیئرمین مبین بشیر،،کراچی چیمبر کے سابق صدر محمد ہارون اگر،چوہدری نصیر،ناصر فتح ککڈا ،عمران غیاث الدین کے علاوہ ممبرا ن بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

عارف لاکھانی نے وزیراعظم اور وزیرخزانہ سے اپیل میں وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمرشل امپورٹرزدرآمدی سطح پرفائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اداکرتے ہیںجس کے بعد کمرشل امپورٹرز کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن حالیہ بجٹ میں فائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم سے کم قرار دیتے ہوئے درآمدی خام مال کی ری اسسمنٹ اور آڈٹ اوپن کرتے ہوئے مزید ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ کمرشل امپورٹرز کے ساتھ سراسرناانصافی ہے۔

کمرشل امپورٹرز کسی بھی صورت اسے قبول نہیں کریں گے اور ملک گیر احتجاج کریں گے۔چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے اجلاس میں مزید کہاکہ کمرشل امپوٹرز ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کی پیدواری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خام مال درآمد کرتے ہیں اور صنعتوں کو خام مال کی سپلائی چین کا حصہ ہیں ۔درآمدی سطح پرفائنل ٹیکس ریجم میں 6فیصد ٹیکس کو کم سے کم قرار دینے،دوبارہ ری اسسمنٹ اور اضافی ٹیکس عائد کرنے سے یقینی طور پر درآمدی لاگت میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں صنعتی خام مال بھی مہنگا ہو گا ۔

ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کو مہنگا خام مال ملنے سے پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی جبکہ چھوٹی صنعتوںبشمول ٹینریز کی صنعتوں کو مناسب داموں پر خام مال نہ ملنے سے ان صنعتوں کے بند ہونے کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے جس سے ملکی مجموعی برآمدات پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔عارف لاکھانی نے مطالبہ کیا کہ درآمدی سطح پرفائنل ٹیکس ریجم میں 6فیصد ٹیکس کو4فیصد کیا جائے اور کمرشل امپورٹرز کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے صنعتوں اور کمرشل امپورٹرز کے درمیان ٹیکسوں کے لحاظ سے تفریق ختم کرتے ہوئے صنعتوں کے برابر ٹیکس ریلیف دیا جائے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو رشوت کا بازار گرم ہوجائے گا اور تاجربرادری کو ہراساں کرنے کا ایک اور راستہ کھل جائے گا ۔ چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے کہاکہ غیر رجسٹرڈ خریدار پر اضافی سیلز ٹیکس 2فیصد تھا جسے اب 3فیصد کیا جارہاہے جس سے فلائنگ انوائس کا رجحان بڑھے گااور حکومت کو ریونیو کی مد میں خطیر نقصان ہوگا۔پی سی ڈی ایم اے غیر رجسٹرڈادفراد پرٹیکس کی شرح 2فیصد سے بڑھا کر3فیصد کرنے کی تجویز کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ غیر رجسٹرڈ پر اضافی سیلز ٹیکس کی ایک فیصد کیا جائے ۔۔