چیف جسٹس کا بلوچستان میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس

آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب ، 11 مئی کو کوئٹہ رجسٹری میں سماعت ہو گی

بدھ مئی 19:22

چیف جسٹس کا بلوچستان میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس
اسلام آباد/ کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بلوچستان میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے 11 مئی کو کوئٹہ رجسٹری میں سماعت ہو گی عدالت نے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کو بھی ان واقعات سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستانی نہیں ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی وجہ سے اس صوبے کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں جس سے ریاست کے تشخص کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو بچے سکول جا سکتے ہیں اور نہ ہی مریض ہسپتال جانے کے لیے تیار ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد پر قتل کا الزام ہے وہ اس وقت بلوچستان میں جلسے کرتے پھر رہے ہیں تاہم چیف جسٹس نے ان افراد کے نام نہیں لیے انھوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ 11 مئی تک اس بارے میں اپنی رپورٹ پیش کریں اور اس از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری برانچ میں ہو گی۔