الیکشن بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں اس سے ایک دوسیٹیں زیادہ ملیں گی،سردار اخترجان مینگل

ہمیں صوبے کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ، اے پی سی بلانے کو تیار ہیں جس میں صوبے میں آپریشن، مسخ شدہ نعشوں، ٹارگٹ کلنگ اور سی پیک پر بات ہو،، ڈنر کے موقع پر خطاب

بدھ مئی 19:29

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ الیکشن بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں اس سے ایک دوسیٹیں زیادہ ملیں گی ہمیں صوبے کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ہم اے پی سی بلانے کو تیار ہیں جس میں صوبے میں آپریشن، مسخ شدہ نعشوں، ٹارگٹ کلنگ اور سی پیک پر بات ہو، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شب مقامی ہوٹل میں پارٹی رہنما نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی اورہمایوں عزیز کرد کی جانب سے اپنے عزیز میں دیئے گئے ڈنر کے موقع پر خطاب کے دوران کیا، تقریب سے نوازادہ حاجی میر لشکری رئیسانی، بلوچستان نیشنل موومنٹ کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، اے این پی کے صوبائی صدراصغرخان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹراسحاق بلوچ، پیپلزپارٹی کے سردار عمر گورگیج بی این پی عوامی کے عبدالواحد بلوچ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مولانا عبدالقادرلونی تحریک انصاف کے ہاشم پانیزئی ایچ ڈی پی کے رضا وکیل سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار چیمبر آف کامرس کے عبدالقیوم خلجی انجمن تاجران کے عبدالرحیم کاکڑ اوردیگر نے بھی خطاب کیا، سردار اخترجان مینگل نے کہا کہ کوئٹہ کے حالات ایک چنگاری کے مانند ہیں جس نے پورے صوبے کو آگ میں لپیٹ رکھا ہے ہمیں مسائل کاباریک بینی سے جائزہ لیکر انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ آج کی تقریب میں صوبے کی سیاسی جماعتوں کے قائدین، صحافی، تاجر، معاشی ماہرین سول سوسائٹی کے لوگ موجود ہیں، دنیا کے تمام ممالک میں یہی لوگ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالتے ہیں لیکن ہم نے صوبے کے مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا اگرکسی بلوچ پشتون ہزارہ کو الگ الگ ماردیاجائے تو کوئی ایک دوسرے پر توجہ نہیں دیتا بلوچستان میں آگ بے مقصد نہیں لگائی گئی جب سی پیک شروع ہواتو میں نے کہاکہ بلوچستان کونئی جنگ میں دھکیل دیاگیا اورآج تک بلوچستان اورخیبرپختونخواء اس جنگ سے نہیں نکل سکے ہیں انہوں نے کہاکہ افسوس کوئٹہ جو محبتوں کی وجہ سے مشہورتھا آج نفرتوں کا شہر بن گیا ہے اس کی حیثیت روانڈاکی سی ہوگئی ہے آج گھر سے نکلنے والا ہر شخص خود کو غیرمحفوظ سمجھتا ہے 20سال سے انسرجنسی اورفرقہ واریت چلی آرہی ہے سنی شیعہ عیسائی پشتون بلوچ کوئی محفوظ نہیں ہے ہم پوچھتے ہیں حکمرانوں نے ایسے کتنے لوگوں کو سرنڈر کرایا جو فرقہ واریت کے نام پر قتل عام کرتے ہیں مسجدوں اور گرجاگھروں میں قتل عام کرنے والے گڈٹیریرسٹ کہلاتے ہیں ، سرداراخترمینگل نے کہا کہ یہاں پر جمہوری پارٹیوں کے قائدین موجود ہیں یہ دیکھیں کہ1970کے بعد کتنے الیکشن آئے ان کے کیا نتائج تھے پھر2013ء کے الیکشن کیا نتائج ہوئے الیکشن مسائل کا حل نہیں الیکشن میں کیا ہوگا دوسٹیں زیادہ ملیں گی ہم جمہوری لوگ ہیں اور ووٹ کا احترام کرتے ہیں ہم ان جمہوری قوتوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کے دور میں ہماری مائوں بہنوں کو احترام ملا کیا ان کے اقتدار میں ووٹ کی عزت نہیں تھی انہوں نے کہاکہ سی پیک کے اربوں ڈالر بلوچستان سے باہر لگادیئے گئے ہیں سی پیک کی یہاں کوئی سڑک نہیں یہاں تو اندرون صوبہ صرف6گھنٹے بجلی ملتی ہے گوادر کی حالت یہ ہے کہ وہاں کے لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں کسی دور میں ہم سنتے تھے کہ سوویت یونین میں لوگ روٹی کیلئے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں گوادر کی حالت تو ان سے ابتر ہے ہم صرف ایسی اے پی سی بلائیں گے جس میں آپریشن مسخ شدہ نعشوں ٹارگٹ کلنگ اور بلوچستان پر بات ہو اے پی سی توہم نے اسلام آباد میں بھی بلوائی تھی جس کے اعلامیئے پر لوگ دستخط کرکے منکر ہوگئے تھے، نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے ڈنر میں شریک تمام سیاسی قائدین سردار اخترمینگل کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ طبعیت کی ناسازی کے باوجود انہوں نے تقریب میں شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر جماعتوں کے قائدین نے کوئٹہ اورصوبے میں بدامنی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں سب کو ملکر اس جنگ کے خلاف لڑنا ہوگا صوبے میں ان سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔