انسداد دہشت گردی کی عدالت کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کی سماعت

ب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس راؤ انوار جیل میں بیمار پڑ گئے ہیں جبکہ عدالت میں پیش کیے گئے ضمنی چالان کے مطابق بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو بیان کیس کی آئندہ سماعت پر ملزم راؤ انوار کی حاضری یقینی بنائی جائے، جج نے جیل حکام کو ہدایات جاری کردیں

بدھ مئی 19:41

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں دیگر 3 شہریوں کے ساتھ قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود کے کیس کی سماعت ہوئی۔جہاں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو بتایا گیا کہ نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس راؤ انوار جیل میں بیمار پڑ گئے ہیں جبکہ عدالت میں پیش کیے گئے ضمنی چالان کے مطابق بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

جیل حکام نے راؤ انوار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیااور موقف اختیار کیا کہ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا تھا، جس کے مطابق راؤ انوار علیل ہیں اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔راؤ انوار کی بیماری سے متعلق عدالت میں پیش کیے گئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے مطابق ملزم کو متعدد امراض لاحق ہیں۔

(جاری ہے)

جس پر جج نے جیل حکام کو ہدایات جاری کیں کہ کیس کی آئندہ سماعت پر ملزم راؤ انوار کی حاضری یقینی بنائی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزم کو پیش نہ کیا گیا تو میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹر کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب جیل حکام نے راؤ انوار کے شریک ملزم ڈی ایس پی قمر اور دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔ادھر نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی رضوان کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور انہیں فوری طور پر طلب کرلیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایس ایس پی رضوان فوری عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر نے گزشتہ سماعت پر مفرور ملزمان کی گرفتاری کی مہلت طلب کی تھی، بتایا جائے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔بعد ازاں نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت میں پیش ہونے کے بعد ایس ایس پی رضوان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش مکمل کرکے ضمنی چالان پراسیکیوٹر کے روبرو پیش کردیا ہے اور پراسیکیوٹر ضمنی چالان کی اسکروٹنی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے اسکروٹنی کے بعد ضمنی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔۔پولیس آفیسر نے بتایا کہ تفتیش ملنے کے بعد ازسر نو تحقیقات کیں اور تحقیقات میں سب کے کردار کو پوری طرح واضح کیا جبکہ ضمنی چالان جے آئی ٹی کی روشنی میں پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ صرف راؤ انوار کا نہیں جبکہ انکوائری کمیٹی اور تحقیقات سے پولیس مقابلہ جعلی ثابت ہوا تھا۔

ضمنی چالان کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی این اے اور الیکٹرونک شہادتوں کا تجزیہ سب کچھ ضمنی چالان میں واضح کردیا ہے۔اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ تحقیقات میں راؤ انوار کی جائے وقوع پر موجودگی ثابت ہوئی جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ راؤ انوار کے علاوہ 14 ملزمان ہیں سب کا کردار واضح کردیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جو ملزم جس گناہ میں ملوث پایا گیا اس کا کردار بیان کردیا ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

بعد ازاں پراسیکیوٹر نے نقیب اللہ قتل کیس کا ضمنی چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ضمنی چالان میں بتایا گیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق ملزم راؤ انوار جائے وقوع پر موجود تھے، ملزم راؤ انوار 2 بج کر 45 منٹ پر جائے وقوع پر پہنچے تھے اور راؤ انوار کا جائے وقوع پر موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔ضمنی چالان میں مزید بتایا گیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق تمام ملزمان ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے چالان میں واضح کیا کہ ملزم راؤ انوار مذکورہ واقعے میں اپنے ملوث نہ ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے جبکہ ملزم راؤ انوار دوران تفتیش ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور ملزم مسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتے رہے۔ضمنی چالان میں بتایا گیا کہ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزمان کو 1 سے 5 فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں، تفتیشی افسر نے ضمنی چالان میں عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے مطابق ملزم راؤ انوار جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی کردار ہے اور اس واقعے کے بعد سابق ایس ایس ملزم راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 12 ملزمان گرفتار ہیں۔

عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت 14 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔اس سے قبل راؤ انوار کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر عدالت کے باہر جرگہ عمائدین نے احتجاج کیا اور ’قاتل، قاتل راؤ انوار قاتل‘ کے نعرے لگائے جبکہ کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔نقیب اللہ کے وکیل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کو بنا ہتکھڑی لایا گیا، اس سے پہلے بھی دکھ کا اظہار کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو پروٹوکول سے لانے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، سماعت کے موقع پر ہم موجود ہیں جبکہ پشاور سے نقیب اللہ کے رشتے دار آئے ہیں اور ملزم کو ایک عام سی رپورٹ پر عدالت نہ لانے کا بہانہ بنادیا گیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ پچھلی پیشی کی وڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنے ہشاش بشاش تھے جبکہ عدالت نے اگلی پیشی پر سختی سے نمٹنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

اس موقع پر احتجاج کرنے والوں نے اعلان کیا کہ اگر یہاں سے انصاف نہ ملا تو اعلی عدالتوں تک جائیں گے۔نقیب اللہ کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اب اگر راؤ کو ہتھکڑی میں نہیں لایا گیا تو پورا ملک بند کردیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللّہ کے بعد عدالتوں سے انصاف کی امید ہے۔خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو گزشتہ ہفتے ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔#