لاہور ہائیکورٹ کا سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کی مبینہ بیوی اور اداکارہ سپنا خان بازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار

بدھ مئی 20:07

لاہور ہائیکورٹ کا سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کی مبینہ بیوی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کی مبینہ بیوی اور اداکارہ سپنا خان بازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور پولیس سے سپنا خان کی بازیابی کیلئے ہونے والی تفتیش کی تفصیلات مانگ لیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپنا خان کی بازیابی کیلئے درخواست پر سماعت کی گئی جس میں پولیس کے سست روی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ سابق وزیر اعلی دوست کھوسہ نے سپنا خان سے شادی کی جس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔ 2012ء میں مقدمہ درج ہوا تھا لیکن ابھی تک سپنا خان کو بازیاب نہیں کیا جا سکا۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ آئی جی پنجاب سپریم کورٹ میں اہم شخصیات سکیورٹی کیس میں مصروف ہیں۔

(جاری ہے)

فاضل جج نے کہا کہ جن لوگوں کو سکیورٹی دینی ہوتی ہے خود ہی ان کے متعلق رپورٹ بنا کر بم پروف گاڑہاں دے دیتے ہیں۔

ملتان میں میرا پورا سکواڈ شہید ہوا مگر مجھے تو کسی نے نہ پوچھا کہ سکیورٹی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ علم میں آیا ہے کہ کچھ سابقہ ججز سے ایک گارڈ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو دارالحکومت میں رہنے والوں کی طرح شہری نہیں سمجھا جاتا ۔ اگر افسران کا ارادہ ہو اور وہ ناں کہنے کی جرات رکھیں تو معاملات خود بخود ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

جسٹس طارق عباسی نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ چھ سال سے زیر التوا ہے آج تک انوسٹی گیشن مکمل نہ ہوئی ، نئی تفتیشی ٹیم کتنا وقت لے گی بتا دیا جائے ۔ جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ایک انسان لاپتہ یوا ہے کوئی بلی کا بچہ نہیں کون اسے ڈھونڈ کر لائے گا۔ بظاہر تفتیش میں تاخیر ایک فریق کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ مقدمہ کی تفتیش کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو معاملے کی چھان بین کر رہی۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے آئی جی کو 21 مئی کو تفتیش مقدمات کے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔