ْ قومی اسمبلی نے خواتین کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی

تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین سیاسی ورکر ہر ایک کے لئے قابل احترام ہونی چاہیں، مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین کا اظہار خیال خواتین ملک کے کسی بھی کونے سے ہوں وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں، خواتین کی عزت کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے اس کی مذمت کروں گا، سپیکر ایاز صادق

بدھ مئی 21:49

ْ قومی اسمبلی نے خواتین کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف مذمتی ..
اسلام آباد۔ 02 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے خواتین کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی جبکہ قومی اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین سیاسی ورکر ہر ایک کے لئے قابل احترام ہونی چاہیں جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ خواتین ملک کے کسی بھی کونے سے ہوں وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں ۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان وزراء کی جانب سے پی ٹی آئی کی خواتین کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کی مذمت کرتا ہے۔ قومی اسمبلی نے قرارداد کی منظوری دے دی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ خواتین کی عزت و آبرو پورے ملک کا معاملہ ہے، بعض شخصیات کی طرف سے خواتین کے خلاف استعمال کئے گئے نازیبا الفاظ سے ہر ماں، بہن اور بیٹی والے کو دکھ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

ہم ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ ہماری ماں، ہماری ہمشیرہ اور ہماری بیٹی بھی خاتون ہے، خاتون جس گھرانے اور جہاں سے بھی آتی ہوں پورا ایوان یہ سمجھتا ہے کہ ان سب کا احترام کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات اچھی بات نہیں، ہم شریف گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی زبان میں جواب نہیں دے رہے، ہمارے صبر کو زیادہ نہ آزمایا جائے، یہ زبان استع،ال کرنے والے کو ایوان میں معافی مانگنی چاہیے۔

سپیکر نے کہا کہ خواتین کی عزت کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے میں اس کی مذمت کروں گا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ خواتین کی بتدریج حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور ان کا استحصال ہو رہا ہے۔ سپیکر کا اس حوالے سے بیان حوصلہ افزا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر خواتین کے لئے ماحول بہتر نہیں رہا، عورت نے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی بن کر اپنی ذمہ داری ہمیشہ بہادری سے نبھائی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے فوری ایکشن لینا چاہیے تھا۔ سندھ اسمبلی میں واقعہ ہوا تو صوبائی وزیر کو معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ اگر خواتین کی باہر عزت نہیں ہوگی تو خواتین ارکان پارلیمنٹ کی بھی کوئی عزت نہیں کرے گا۔ اگر مائنڈ سیٹ نہیں بدلے گا اور پارلیمنٹ سے پیغام نہیں جائے گا تو حالات نہیں بدلیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ عورت ماں، بہن، بیٹی، بیوی سمیت کسی بھی شعبہ سے ہو اس کی عزت و حرمت سب پر لازم ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے رانا ثناء اللہ کے بیان پر معذرت کی اس کے بعد ہمیں دل صاف کرلینا چاہیے۔ ہمیں ایسے الفاظ کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ ہر خاتون سیاسی ورکرز تمام مردوں کے لئے اور ہمارے لئے قابل احترام ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے کہا کہ اللہ نے عورت کو تخلیق کا ذریعہ بنایا، اس پارلیمنٹ میں ہم اصلاح احوال اور عوام کی خدمت کا مینڈیٹ لے کر آتے ہیں۔ عورت کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ یہ الفاظ کسی ایک عورت کے خلاف نہیں تمام عورتوں کے خلاف ہیں۔ جو لوگ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں انہیں ایوان میں معافی مانگنی چاہیے اور ان کے لئے سزا بھی ہونی چاہیے۔