ایون فیلڈ ریفرنس،نواز شریف پبلک آفس ہولڈ کرتے وقت لندن فلیٹس کے مالک تھے، گواہ نیب

انہوں نے نیلسن اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے بے نامی دار کے نام پر فلیٹس خریدے، مریم نوازنے جن ٹرسٹ ڈیڈز کو اصل کہہ کرجے آئی ٹی میں جمع کرایا وہ جعلی ثابت ہوئیں، مریم، حسن اور حسین نوازبے نامی دار ہوتے ہوئے جرم کے ارتکاب میں نوازشریف کے مدد گاررہے، ملزمان کرپشن میں معاونت کرنے پرنیب قوانین کے تحت سزا کے حقدار ہیں نیب کے گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر کا احتساب عدالت میں بیان

بدھ مئی 20:52

ایون فیلڈ ریفرنس،نواز شریف پبلک آفس ہولڈ کرتے وقت لندن فلیٹس کے مالک ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب کے گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے نواز شریف پبلک آفس ہولڈ کرتے ہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے ، انہوں نے نیلسن اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے بے نامی دار کینام پر فلیٹس خریدے، مریم نوازنے جن ٹرسٹ ڈیڈز کو اصل کہہ کرجے آئی ٹی میں جمع کرایا وہ جعلی ثابت ہوئیں، مریم، حسن اور حسین نوازبے نامی دار ہوتے ہوئے جرم کے ارتکاب میں نوازشریف کے مدد گاررہے،، ملزمان کرپشن میں معاونت کرنے پرنیب قوانین کے تحت سزا کے حقدار ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

موسم کی خرابی کے باعث مریم نواز کے وکیل امجد پرویز بھی اسلام آباد نہ پہنچ پائے جس کے باعث امجدپرویزکے ایسوسی ایٹ نسیم ثقلین نے مریم نواز کی طرف سے پاور آف اٹارنی جمع کرادیا جب کہ امجد پرویز کی عدم موجودگی میں میاں نسیم ثقلین مریم نواز کی طرف سے پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر نیب کے گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے عدالت کو بتایاکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے نواز شریف پبلک آفس ہولڈ کرتے ہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے، انہوں نے نیلسن اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے بے نامی دار کینام پر فلیٹس خریدے۔تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ ملزمان لندن جائیداد کی خریداری کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے، لندن فلیٹس 1993 سے نواز شریف اور دیگر نامزد ملزمان کے زیر استعمال ہیں۔

عمران ڈوگر کے مطابق موسیٰ غنی اور طارق شفیع کو 16 اگست 2017 کو سمن جاری کیے،،نوازشریف،، مریم نواز اور دیگر ملزمان کو 18 اگست 2017 کوطلبی کے سمن جاری کیے، نوٹس میں لکھا نا آنے پر تصور کیا جائیگا کہ ملزمان کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں۔۔نوازشریف کے وکیل نے گواہ کے سمن کے متن کا حوالہ دینے پر اعتراض کیا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وکیل صفائی کو ضرورت ہے تو سمن کی کاپی بھی دے دیتے ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ مریم نوازنے جن ٹرسٹ ڈیڈز کو اصل کہہ کرجے آئی ٹی میں جمع کرایا وہ جعلی ثابت ہوئیں، مریم، حسن اور حسین نوازبے نامی دار ہوتے ہوئے جرم کے ارتکاب میں نوازشریف کے مدد گاررہے، تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کرپشن اورکرپٹ پریکٹسز میں ملوث پائے گئے، کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز نیب آرڈیننس 1999 کے تحت قابل گرفت جرم ہے۔

تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کی طرف سے جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈ کوجعلی قرار دیا، ٹرسٹ ڈیڈ نیلسن، نیسکول اور کوبر سے متعلق تھی، گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والی دستاویزات سے متعلق گواہی نہیں دے سکتا، جے آئی ٹی نے آئی ٹی ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے رپورٹ کی روشنی میں رائے قائم کی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے نواز شریف کی کرپشن میں معاونت کی، ملزمان کرپشن میں معاونت کرنے پرنیب قوانین کے تحت سزا کے حقدار ہیں۔