پیر علی رضا بخاری نے آ زاد کشمیر میں بین الاقوامی سیاحت کے فروغ ، علاقہ میں روز گار کے نئے مواقع کی تلاش،

ملک کے سافت امیج کو ابھارنے اور مسئلہ کشمیر کو نئے زاویے سے اجاگر کرنے کے لئے گلگت بلتستان طرز پر آزادکشمیر میں بھی بین الاقوامی سیاحوں کے داخلے کے لئے انہیں وزارت داخلہ کے این او سی سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے انتہائی اہم قرار داد آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کر دی

بدھ مئی 21:11

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ممبر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے آزاد کشمیر میں بین الاقوامی سیاحت کے فروغ ، علاقہ میں روز گار کے نئے مواقع کی تلاش، ملک کے سافت امیج کو ابھارنے اور مسئلہ کشمیر کو نئے زاویے سے اجاگر کرنے کے لئے گلگت بلتستان طرز پر آزادکشمیر میں بھی بین الاقوامی سیاحوں کے داخلے کے لئے انہیں وزارت داخلہ کے این او سی سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے انتہائی اہم قرار داد آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کر دی۔

بدھ کو سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت شروع ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ آزادکشمیر جو کم معاشی وسائل والا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے ،جہاں زراعت انتہائی محدود جبکہ کاروبار بھی چھوٹے ہیں اس لیئے ضروری ہے کہ علاقہ کی مالی آمدن میں بھی اضافہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نئے اور قدرتی مواقع تلاش کئے جائیں۔

(جاری ہے)

مزید براں آبی وسائل کی مینجمنٹ اور سیاحت کا فروغ دوسرے ایسے ذرائع ہیں جو لوگوں کی زندگیوں کو بہتربنانے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاحت کا شعبہ بھی تک عدم توجہی کے باعث زیر عتاب ہے اور اس پر مزید یہ کہ یہ علاقہ بین الاقوامی سیاحت کے لئے ممنوع ہے۔ میں بطور ممبر اسمبلی یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے داخلے کی۔

پالیسی پر نظر ثانی کی جائے موجودہ سیاحتی پالیسی میں بے شمار بیورو کرٹیک رکاوٹیں موجود ہیں جن میں آزاد کشمیر داخلے کے لئے ایک وزارت داخلہ سے سرٹیفکیٹ عدم اعتراض کا حصول بھی ہے۔ آزاد جموں وکشمیرمیں سیاحت کے لئے بے شمار خوبصورت مقامات موجود جو کہ ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کے سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث بن سکتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان علاقوں کی سیاحت کے لئے مناسب مارکیٹنگ کی جائے اور اس کے لئے میں ایوان میں قرار دا د پیش کرتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں بغیر کسی رکاوٹ کے انٹرنیشنل ٹورازم کی اجازت دی جائے۔

اس ضمن میں چند سفارشات درج ذیل ہیں۔ (الف) شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان )بھی آزاد کشمیر کی طرح حساس علاقے ہیں مگر وہاں کسی پابندی یا رکاوٹ کے بغیر سیاحت کی اجازت ہے اسی طرح آزاد جموں وکشمیر میں آزاد سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ (ب) آزاد کشمیر باالخصوص میرپور ، کوٹلی اور پونچھ سے لاکھوں افراد بیرون ملک رہائش پذیر ہیں انہیں یہاں آزاد انہ آمد میں بے شمار کلیئرنس ایشوز درپیش ہوتے ہیں وہ یہاں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یہاں پر آزاد کشمیر میں ملکی سیاحوں کے داخلے کے موجودہ نظام پر نظر ثانی کی جائے۔

(ج) نیلم ، راولاکوٹ، حویلی اور باغ کو اگر ترقی دیکر یہاں ٹورازم ریزارٹس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ موثر سیاحتی امداد کے ساتھ اس کی مارکیٹنگ کی جائے جو یہ بے شمار ملکی و غیرملی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں جس سے نہ صرف سیاحت کے شعبہ کو ترقی ملے گی بلکہ آزاد کشمیر کی آمدن اور معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ (د) آزاد جموں وکشمیر میں ملی سیاحوں کی آمد سے مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں کوئی متبادل ذریعہ نہیں۔

پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ میں آزاد کشمیر کے عوام کے ایک متحرک نمائندہ کے طورپر ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور اس کی ترقی پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور اس معزز ایوان میں اپنی آزاد کشمیر میں بین الاقوامی سیاحت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ’’نظر ثانی ‘‘ کی درخواست پیش کرتا ہوں کہ ایوان اس مسئلہ کو زیر بحث لائے۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری پیش کردہ قرار داد مسودہ کی شکل میں اتنی اہم نہ لگی ہو مگر اگر اس پر عملد رآمد کیا جائے تو یہ قرار داد علاقہ میںسیاحت کی ترقی اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے دور رس نتائج کی حامل ثابت ہو گی