آزاد کشمیر میں سیاسی تبدیلی مسلم کانفرنس کے استحکام سے مشروط ہے‘ شمیم علی ملک

بدھ مئی 21:12

ْآٹھ مقام (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی چیئر پرسن سابق وزیر محترمہ شمیم علی ملک نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاسی تبدیلی مسلم کانفرنس کے استحکام سے مشروط ہے۔ منحرف ٹولے کا انجام وقت سے پہلے ہی آگیا ہے بدنیتی کی بنیاد پر مسلم کانفرنس کو کمزور کر کے ریاست کے عوام پر بد کردار لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے جنھوں نے کشمیر اور پاکستان کے رشتوں کو کمزور کرنے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔

حکومت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ دوسالوں میں50 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کہا لگے عوام حساب مانگتے ہیں۔ زبانی جمع تفریق کر کے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ احتساب سے بچنے کے لئے اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے جمہوری اصول کے تحت ہم نے حکومت کو دوسال کا وقت دیا لیکن تعمیر ترقی کا عمل بڑھنے کے بجائے ریاست کو سازش کے تحت اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے سپماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

وادی نیلم کا شمار آزاد کشمیر کے خوشحال علاقون میں ہونے لگا تھا لیکن نئے منصوبے دور کی بات ہے جاریہ ترقیاتی منصوبوں کو روکنا سوالیہ نشان ہے۔ مسلم کانفرنس پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے مسلم کانفرنس کو کمزور کرنا ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ مسلم کانفرنس میں جو تطہیر ہوئی ہے۔ اب گندے لوگوں کی جو مسلم کانفرنس کو توڑنے میں ملوث رہے ہیں ان کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

مسلم کانفرنس کے نظریاتی کارکن آج بھی سیسہ پلائی دیوار کی مانند سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں منظم انداز میں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں بھی ن لیگ خورد بین سے بھی نظر آئے گی مسلم کانفرنس ریاست کے عوام کو بڑا سرپرائز دینے جا رہی ہے۔ ہمارے لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنانے والے اپنے انجام کے لئے تیار ہیں کسی بھی صورت میں آزاد کشمیر میں قائدانہ کردار اب مسلم کانفرنس ہی کا ہو گا۔