دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت بالخصوص پاک فوج کے تعاون نے ہمارے حوصلوں کو نئی جلا بخشی ہے،

پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کو سعودی عرب کا ہر شہری قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی باہمی محبت اور مشترکہ عقائد کے جس بندھن میں بندھی ہوئی ہے آنے والے برسوں میں اسے اقتصادی اور عسکری تعاون کی نئی جہتیں حاصل ہوں گی اسلامی عسکری اتحاد کے قائم مقام سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح کی پاکستانی میڈیا کے وفد سے بات چیت

بدھ مئی 21:53

جدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) انسداد دہشتگردی کے مشترکہ اسلامی عسکری اتحاد کے قائم مقام سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت بالخصوص پاک فوج کے تعاون نے ہمارے حوصلوں کو نئی جلا بخشی ہے، پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کو سعودی عرب کا ہر شہری قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی باہمی محبت اور مشترکہ عقائد کے جس بندھن میں بندھی ہوئی ہے آنے والے برسوں میں اسے اقتصادی اور عسکری تعاون کی نئی جہتیں حاصل ہوں گی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکستانی میڈیا کے وفد سے یہاں بات چیت کرتے ہوئے کی۔ جب سے دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد قائم ہوا ہے اتحاد کے مرکز میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے وفد کا یہ پہلا دورہ ہے ۔

(جاری ہے)

لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح کی زیرقیادت اس اتحاد میں 24اسلامی ممالک کی افواج شامل ہیں اور یہ اتحاد دہشتگردی کے خلاف غیرمعمولی طاقت اور پیشہ وارانہ اہلیت کا حامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی اور انٹیلی جنس سے لے کر آپریشن تک کے تمام مراحل میں غیرمعمولی مستعدی اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر دہشتگردوں کی سرکوبی مشکل ہوتی ہے۔ اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام پاکستان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کی شمولیت سے ہمارے عزم کو مزید جلا ملی ہے۔

دہشتگردی ایک ایسا چیلنج ہے جس کا پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سامنا ہے اور پاکستان کی حکومتوں، فوج،، عوام اور میڈیا نے مل جل کر اس چیلنج کا جس جرات، حوصلے اور حکمت عملی سے مقابلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی حکمت عملی سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے، اسلامی عسکری اتحاد دہشتگردی کے خلاف اپنی حکمت عملی میں پاکستان کے تجربات اور کامیابیوں کو مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

اتحاد کے قیام کے اہداف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یہ ا قدام دسمبر 2015ء میں اٹھایا اوراس کا اعلان ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا۔ اسلامی ممالک کے رہنمائوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق مشترکہ کارروائی کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششوں کو تیز کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد کے قیام کا مقصد رکن ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون، دہشت گردی کی مالی امداد کا مقابلہ کرنے کیلئے معلومات کا تبادلہ، لاجسٹک سپورٹ اور تربیت کے ذریعے رکن ریاستوں میں فوجی کوششوں کے تعاون میں اضافہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علاقائی اور بین الاقوامی سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کیلئے اتحاد کے حقیقی کردار اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اہم اسلامی ممالک کے تعاون کو فعال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد کیلئے دہشتگردی کی کارروائیاں کر کے عوام کے اندر احساس عدم تحفظ، خوف اور بے چینی پیدا کرتے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کو متحد اور چوکس رہنا پڑتا ہے، اس حوالے سے میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے، میڈیا کو ہر قسم کے بیرونی خطرات، جارحیت اور دہشتگردی کے خلاف عوام میں آگاہی اور جرات کو بیدار کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس تناظر میں پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کی جس نے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کو اجاگر کرنے اور عوام میں اتحاد و یگانگت اور جرات کا جذبہ بیدار کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا معاشرے کے ہر شعبہ زندگی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے بالخصوص امن و سلامتی کے حوالے سے اس کا کردار غیرمعمولی توجہ کا حامل ہے۔

سعودی عرب،، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے میڈیا کو انتہاپسندانہ سوچ اور سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا چاہیے، اس پر ان معاشروں کی سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا انحصار ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے میڈیا میں رابطہ کاری اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔