کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کی شرح میں اپریل کے دوران مارچ 2018ء کے مقابلہ میں 1.8 فیصد کااضافہ

بدھ مئی 21:53

کنزیومر پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کی شرح میں اپریل کے دوران مارچ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ملک میں کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی) پر مبنی افراط زر کی شرح میں اپریل کے دوران مارچ 2018ء کے مقابلہ میں 1.8 فیصد کااضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اپریل 2017ء کے مقابلہ میں افراط زر کی شرح میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے حکام کی جانب سے بدھ کو جاری اعداد وشمار کے مطابق غیر غذائی اشیاء کے لئے سی پی آئی میں گزشتہ ماہ کے مقابلہ میں 2.5 فیصد جبکہ اپریل 2017ء کے مقابلہ میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اسی طرح قیمتوںکے حساس اشاریہ پر مبنی افراط زر کی شرح میں اپریل 2018ء میں گزشتہ سال کے اسی ماہ کے دوران 0.5 فیصد کمی ہوئی جبکہ مارچ 2018ء کے مقابلہ میں اس میں 0.6 فیصد کمی ہوئی۔ ہول سیل پرائس انڈیکس پر مبنی افراط زر کی شرح میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔ دریں اثناء جن چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں چاول، گوشت، خشک میوہ جات، پھلیاں، دودھ کی مصنوعات، تیار خوراک، چائے، مچھلی، انڈے، چکن اور مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔ جن اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں ٹماٹر، دال ماش، آلو، سگریٹ، تازہ سبزیوں، دال مسور، چینی، بیسن، دال مونگ، دال چنا شامل ہیں۔

متعلقہ عنوان :