سیاسی جماعتوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے،

بجٹ ایک قانونی تقاضا تھا جو حکومت نے پورا کیا ہے، 2013ء کے بعد سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سٹاک مارکیٹ، شرح نمو، ٹیکس وصولیوں اور دیگر معاشی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، درآمدات میں اضافہ برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گا سینیٹ میں مختلف جماعتوں کے ارکان کا ئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

بدھ مئی 21:57

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سینیٹ کے ارکان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے، بجٹ ایک قانونی تقاضا تھا جو حکومت نے پورا کیا ہے، 2013ء کے بعد سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سٹاک مارکیٹ، شرح نمو، ٹیکس وصولیوں اور دیگر معاشی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، درآمدات میں اضافہ برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گا۔

بدھ کو ایوان بالا میں آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ بجٹ میں مزید بہتری کے لئے اپوزیشن کو سفارشات دینی چاہئیں، حکومت ان کی جائز سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔ بجٹ ایک قانونی تقاضا تھا جو حکومت نے پورا کیا ہے کیونکہ خلا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2013ء کے بعد سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سٹاک مارکیٹ، شرح نمو، ٹیکس وصولیوں اور دیگر معاشی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، سسٹم میں 12 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل ہونے سے توانائی کی صورتحال آج سب کے سامنے ہے۔

اگلے سال کے دوران مزید منصوبوں سے بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں 13.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی معیشت اب بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ سی پیک اور جی ڈی پی کے بڑھنے سے یقینی طور پر درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ درآمدات میں یہ اضافہ ہماری برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہئے، آئندہ مالی سال کے بجٹ کو غریب دوست نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ بجٹ سے عوام کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

اے این پی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا پی ایس ڈی پی اتفاق رائے سے تیار کیا جانا چاہئے تھا، بجٹ میں خواتین کی ترقی کے لئے بھی خاص اقدامات نظر نہیں آتے۔ خواتین سے متعلق کمیشن کو ہمیشہ فنڈز کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری سے تشدد اور منشیات کے استعمال جیسے جرائم بڑھتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے بھی اقدامات کئے جاتے تو بہتر ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کے مسئلہ پر قابو پایا جائے۔ خیبر پختونخوا میں پن بجلی کے منصوبے شروع کرنے کی بڑی گنجائش تھی لیکن اس کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت اس مقصد کے لئے فنڈز مختص کرے، تمام صوبوں میں چھوٹے ڈیم تعمیر کر کے آب پاشی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ ٹیکس وصولی میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن آئندہ مالی سال کے لئے جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ بہت بڑا ہدف ہے، اسے حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑے گی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے خلاف تین صوبائی اسمبلیاں قراردادیں منظور کر چکی ہیں، اس کا ذکر چھیڑنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن، ریلوے اور واپڈا جیسے اداروں میں صوبوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، جب تک صوبوں کو نمائندگی نہیں ملے گی، وہ اپنے منصوبوں کے بارے میں تجاویز جمع نہیں کروا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں غریب عوام کی بہتری کے لئے ہمیں اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ پاکستان کے عوام اب بھی مسائل کا شکار ہیں۔ ہماری پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں کہ عوام کو مشکلات اور مسائل سے نکال کر انہیں سہولیات مہیا کی جائیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر غوث محمد نیازی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال اور پیپلز پارٹی کے پانچ سال کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کرنے والوں نے اپنے دور میں عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں معیشت کو بہتر بنایا ہے اور عوام کے مسائل حل کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ معیشت کے ہر شعبے میں ہمیں بہتری نظر آ رہی ہے۔ پی ٹی آٴْئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ملک میں جب تک بدعنوانی ختم نہیں ہوگی، معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے صرف اس لئے ضائع ہو جاتے ہیں کہ منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوتے۔