بھارتی فوجیوںنے جولائی 2016سے اب تک 197کشمیریوں کو شہید کیا

صحافتی تنظیم کی طرف ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کرنے پربھارت پرکڑی تنقید

بدھ مئی 21:28

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوںنے 8جولائی 2016کو ممتاز نوجوان کشمیری رہنماء برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونیوالے عوامی انتفادہ کے بعد سے آج تک197 افراد کو شہید کیا ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق فوجیوںنے اس عرصے کے دوران انتفادہ کو دبانے کیلئے گولیوں اور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جس سی21ہزار چھ سوافراد زخمی ہو گئے ۔

پیلٹ گنوں کی فائرنگ سی128افراد مکمل طورپر بینائی سے محروم ہو گئے ، 207افراد ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی جبکہ1020نوجوانوںکی مکمل طورپر بینائی سے محرومی کا خدشہ ہے ۔ فوجیوںنے اس عرصے کے دوران 65ہزار880گھروں کو نقصان پہنچایا اور778خواتین کی بے حرمتیاں کیں۔

(جاری ہے)

ادھر جموںوکشمیر مسلم خواتین مرکز کی سربراہ یاسیمین راجہ کی قیادت میں ضلع پلوامہ کے علاقے دربگام میں احتجاجی مظاہرہ کیاگیا جہاں پیر کو بھارتی فوجیوںنے تین نوجوانوں کو شہید کردیاتھا۔

مظاہرین جنہوںنے پاکستانی جھنڈے اٹھا رکھے تھے آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ ، جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے وفود شہداء کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کیلئے ضلع پلوامہ کے علاقے دربگام ، راج پورہ اور آری ہل گئے ۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حال ہی میں کٹھ پتلی ڈپٹی وزیر اعلیٰ کامنصب سنبھالنے والے کویندر گپتا کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوںنے کٹھوعہ کی آٹھ سالہ بچی کے اغوا،، بے حرمتی اورقتل کے واقعہ کو ایک معمولی واقعہ قراردیتے ہوئے کہاتھااس پر اتنا شور شرابا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ضلع کٹھوعہ کے علاقے Billawarمیں ہند و دہشت گردوں نے لیاقت علی نامی ایک گیارھویں جماعت کے طالب علم کو چھریاں مار کر قتل کر دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ایک ویڈیو میں قاتلوں کو لیاقت کو اینٹوں اور لاٹھیوں سے لیاقت کو بے رحمی سے پیٹتے اور آخر میں چھریاں مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کے جموںوکشمیر پر رابطہ گروپ نے جدہ میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے حالیہ قتل کی شدید مذمت کی۔

جموں وکشمیر کے بارے اسلامی تعاون تنظیم کے خصوصی نمائندے عبداللہ العالم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان ،آذربائیجان، ترکی،، سعودی عرب اور نائیجر کے وفد نے بھی شرکت کی۔خصوصی نمائندے نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے کشمیریوں کے حالیہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کی حمایت کے تنظیم کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔

ادھر نئی دلی میں قائم صحافتی تنظیم ’’ دی ہوٹ‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھارت میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کی صورتحال مسلسل دگر گوں رہی ۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ اس عرصے کے دوران جموںوکشمیر میں انٹر نیٹ سروس سات مرتبہ معطل کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہسرینگر میں انٹرنیٹ معطلی کا سب سے بدترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کی پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔