یو این ڈی پی پاکستان نے اپنی نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ جاری کردی

رپورٹ پاکستان میں انسانی ترقی کی راہ میں درپیش مشکلات اور نوجوانوں کے نقطہ نظر سے موجود مواقع کو سمجھنے کی کاوش ہے انسانی ترقی کے ثمرات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے زور نوجوانوں کو بااختیار بنائیں، انہیں درپیش رکاوٹوں کے اصل اسباب کو دور کریں ، مشکلات پر قابو پانے کے لئے جدت آمیز طریقے بھی تجویز

بدھ مئی 22:04

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ (یو این ڈی پی) پاکستان نے ''جواں پاکستان کو بنائیں قوت کا نشاں'' کے عنوان سے اپنی نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (این ایچ ڈی آر) جاری کردی ہے، یہ رپورٹ پاکستان میں انسانی ترقی کی راہ میں درپیش مشکلات اور نوجوانوں کے نقطہ نظر سے موجود مواقع کو سمجھنے کی ایک کاوش ہے۔

اس میں انسانی ترقی کے ثمرات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنائیں، انہیں درپیش رکاوٹوں کے اصل اسباب کو دور کریں جبکہ ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے جدت آمیز طریقے بھی رپورٹ میں تجویز کئے گئے ہیں۔براہ راست تجزیہ اور شواہد پر مبنی پالیسی سفارشات پیش کرتے ہوئے اس رپورٹ میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے والے تین بنیادی محرکین کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں معیاری تعلیم،، ثمرآور روزگار اور بامعنی شمولیت شامل ہیں۔

(جاری ہے)

پاردی سکول آف گلوبل سٹڈیز، بوسٹن یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر عادل نجم اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں معاشیات کے ایسوسی پروفیسر ڈاکٹر فیصل باری کی تصنیف کی ہوئی ۔اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں کی معیاری تعلیم،، ثمرآور روزگار اور بامعنی شمولیت ملک میں انسانی ترقی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں ملکی معاشرت کے تین اہم پہلوئوں یعنی لوگ، مواقع اور انتخاب کے راستوں پر زور دیتے ہوئے مجموعی کامیابی کی پیمائش کے لئے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس (ایچ ڈی آئی) تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نوجوانوں کو اس بناء پر بنیادی حیثیت دی گئی ہے کہ پاکستان کی پوری تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ملک میں نوجوانوں کی تعداد کسی بھی دور کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

کل آبادی کا 64 فیصد اس وقت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ پاکستان کا شمار اس وقت دنیا کے سب سے کم سن ممالک میں ہوتا ہے اور جنوبی ایشیائی خطے میں افغانستان کے بعد یہ اس لحاظ سے دوسرے نمبر پر آتا ہے۔منصوبہ سازی، ترقی و اصلاحات کے وزیر احسن اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ہر سطح کی فیصلہ سازی میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آواز اور شمولیت انسانی ترقی کی کسی بھی سوچ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور طویل مدتی پالیسی سازی میں بھرپور اہمیت کے حامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بوہنے کا کہنا تھا کہ سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے مواقع اتنے شاندار کبھی بھی نہیں رہے اور نہ ہی ہمیں درپیش مشکلات پہلے کبھی اتنی شدید تھیں جتنی یہ آج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہی مواقع سے آگاہی کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان کے وڑن 2025 کی روشنی میں نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی ہے جو ہر سطح کی سرگرمیوں میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

این ایچ ڈی آر کے قائد مصنفین ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کا تعین کسی نہ کسی انداز میں وہی لوگ کریں گے جن کی عمریں آج 15 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔ ہم سب دیگر لوگ واحد انتہائی مفید کام یہ کر سکتے ہیں کہ تعلیم،، روزگار اور شمولیت کے ایسے بامعنی مواقع پیدا کریں جن کے ذریعے ہم اپنے نوجوانوں کو اپنی قوت کا نشان بنا سکیں۔نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ دراصل پوری پاکستانی قوم کی رپورٹ ہے اور پوری پاکستانی قوم اس کی مالک ہے کیونکہ یہ رپورٹ ایک مشاورتی کونسل کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے جس کے ارکان میں بڑی سیاسی جماعتوں اور حکومتی نمائندوں کے علاوہ دانشور طبقے کی سرکردہ شخصیات شامل ہیں۔

معاشرے کے تمام طبقات کی بھرپور شمولیت کے ذریعے پاکستان این ایچ ڈی آر 2017 کے سلسلے میں ملک بھر کے تقریباً 130,000 افراد تک رسائی حاصل کی گئی جن میں سے 90 فیصد نوجوان تھے جس کی بناء پر یہ رپورٹ ''نوجوانوں کی طرف سے، نوجوانوں کے لئی'' تیار کی گئی ایک رپورٹ ہے۔ ۔۔۔۔ ۔ شمیم محمود