توبہ کرنے والوں کو اللہ اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہی:علامہ حافظ نذیر احمد

اللہ کا بندہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کئے جائیں:اجتماع سے خطاب

بدھ مئی 22:10

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) تحریک منہاج القرآن کے سینئر رہنما،معروف مذہبی سکالر،سفیر یورپ الحاج علامہ حافظ نذیر احمد خان نے کہا ہے کہ شب براء ت گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کی رات ہے،آج رات ہمیں نئے سرے سے اپنی عبادات میں اضافہ کرنا ہے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرنا ہے،اللہ کے حضور گڑ گڑا کر گناہوں کی بخشش،اپنے والدین اور عزیز واقارب کی مغفرت طلب کرنی ہے،اس بابرکت رات میں گناہوں سے ترک تعلق کا عہد کرنا ہے،اگر ہم نے اس مقدس وبابرکت رات کے تقاضے پورے کر دیئے تو یہ بخشش اور نجات کی رات بن جائے گی،محسن انسانیت حضور اکرم ﷺکا فرمان ہے کہ اللہ تعالی نصف شعبان کو آسمان دنیا پر اپنی رحمت کا نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے،وہ تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں شب براء ت کے موقع پر ’’شب نجات‘‘کے عنوان سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کر رہے تھے،اس موقع پر ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن خرم نواز گنڈا پور،جواد حامد،سہیل احمد رضا،محمد منشاد،علامہ محمد معظم،حافظ غلام فرید سمیت مشائخ عظام علماء کرام،قراء و نعت خواں حضرات کے ساتھ ساتھ مردو خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

(جاری ہے)

علامہ نذیر احمد خان نے کہا کہ شب برأت برکت و رحمت والی رات ہے ہم عہد کریں کہ نیک کام کریں گے،برے کاموں سے اجتناب کریں گے،اللہ کریم کی بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں گے،انفرادی و اجتماعی گناہوں کی معافی مانگیں گے،اپنی جائز حاجات کے لیے اللہ سے دعا کریں، انہوں نے مزید کہا کہ شب براء ت مغفرت کی شب ہے۔توبہ کرنیوالوں کو اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے،اللہ رب العزت کا بندہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کئے جائیں۔

گناہوں سے سچے دل سے توبہ کی جائے،ماں باپ اگر ناراض ہیں تو ان کے قدموں میں پڑ کر معافی مانگی جائے اور انہیں منایاجائے،انہوں نے کہا کہ اس رات کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان رنجشیں ختم کر کے آپس میں گلے ملیں،دنیاوی عداوتوں کو ختم کریں تاکہ اس عظیم و بابرکت شب کی برکات وحسنات سے مالا مال ہوا جاسکے۔دعائیہ اجتماع کے اختتام پر ملکی سلامتی و خوشحالی،دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

متعلقہ عنوان :