ہری پور ،دو سال گزر گئے، ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے کمپیوٹر آپریٹرز تنخواہوں سے محروم

ملازمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، دو سال گزرنے کے باوجود تاحال عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا

بدھ مئی 22:35

ہری پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) خیبرپختونخواہ ایکسائز ٹیکسٹیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول میں کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس اور کمپیوٹرائزیشن آف پروفیشنل ٹیکس پر کام کرنے والے کمپیوٹرز آپریٹرزکو جون2016 کے بعد تنخواہیں نہ مل سکیں وصوبائی حکومت تمام صوبائی ملازمین کی مستقلی اور ان کو بہتر سہولیات میسر کرنے اور تمام صوبائی اداروں کو مکمل با اختیار اور کمپیوٹرائزڈ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے حال ہی میں صوبائی حکومت نے ہزاروں ملازمین کی مستقلی اور پروموشن کے عمل کو یقینی بناتے ہوئے ملازمین کے دل جیت لئے ہیں چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے تمام صوبائی اداروں کو خالی آسامیاں 90 دن کے اندر پر کرنے کی ہدایات بھی کی ہیں۔

ان تمام تر اقدامات کے باوجود ریونیوجمع کرنے والے محکمہ ایکسائز ٹیکسٹیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول خیبرپختونخواہ کے پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ اور پروفیشنل ٹیکس ریکارڈ پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں جون2016 کے بعد روک دی گئی تھیں، جس کے بعد ملازمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کی اور کیس جمع کروا دیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے حتمی فیصلہ آنے تک محکمہ ایکسائز ٹیکسٹیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول کو ملازمین بارے حتمی کاروائی کرنے سے روک دیا۔

دو سال گزرنے کے باوجود تاحال عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا،محکمہ ایکسائز ٹیکسٹیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول کے کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ اور پروفیشنل ٹیکس ریکارڈ پر کام کرنے والے کم و بیش 52 ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے شدید پریشانی سے دوچار ہیں ۔ اکثر ملازمین نے معاشی پریشانی کے سبب دفاتر جانا ہی چھوڑ دیا ہے جبکہ کچھ ملازمین ابھی بھی بغیر تنخواہوں کے اپنے اپنے ضلعی دفاتر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

2005 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخواہ اور ایکسائز نے کمپیوٹرائزیشن آف ایکسائز کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا تھا ۔پروجیکٹ سٹاف نے خیبرپختونخواہ کا تمام پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ اور پروفیشنل ٹیکس ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے بعد صارفین کو کمپیوٹرائزڈ چالان نوٹسز بجھوانا شروع کر دئیے تھے ، اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے صارفین اپنی پراپرٹی اور پروفیشنل ٹیکس کا ریکارڈ ایکسائز کی ویب سائٹ پر دیکھنے لگ گئے تھے ۔

مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر 30 جون 2016 کے بعد محکمہ ایکسائز ٹیکسٹیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول نے ملازمین کو دفاتر خالی کرنے کے احکامات جاری کئے جس کے بعد ملازمین نے عدالت سے رجوع کیا۔اس کے بعد کمپیوٹرائزیشن آف ایکسائز جیسے بے شمار پروجیکٹس جن میں کمپیوٹرائزیشن آف ڈرائیونگ لائسنس بھی شامل ہے کو مستقل کر دیاگیا۔ اس وقت صوبہ خیبرپختونخواہ میں محکمہ ایکسائز کے کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس اینڈ پروفیشنل ٹیکس ریکارڈز پر کام کرنے والے ملازمین شدید پریشانی سے دوچار ہیں ۔

ملازمین نے اپنے متعلقہ ایم پی ایز ،صحافیوں ، سرکاری افسران وکلاء حضرات سے معتدد بار درخواست کی ہے کہ وہ ان کے مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ان کو تنخواہیں دوبار سے ملنا شروع ہو جائیں اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کو بھی ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔صوبہ بھر میں مندرجہ بالا پروجیکٹ پر کام کرنے والے ملازمین نے ایک مرتبہ پھر چیف منسٹر آف خیبرپختونخواہ ، چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، اور منسٹر ایکسائز میاں جمشید اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ سے درخواست کی ہے کہ وہ کمپیوٹرائزیشن آف ایکسائز پر کام کرنے والے ملازمین کو فی الفور مستقل کرنے کی نوید سنائیں