خیبر پختونخواہ، کمپیوٹرائزیشن آف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرنیوالے ملازمین عدم تحفظ کا شکار

بدھ مئی 22:35

ہری پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) صوبہ خیبر پختونخواہ میں کمپیوٹرائزیشن آف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرنے والے ملازمین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، خیبر پختونخواہ حکومت نے 2001 کے بعد مختلف محکموں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے انفارمیشن اینڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ آف خیبر پختونخواہ کے تعاون سے پروجیکٹس شروع کئے تھے جن میں سے زیادہ تر پروجیکٹ فلاپ ہونے کے بعد ختم ہو چکے ہیں ۔

اورسرکاری محکمہ جات دوبارہ مینول سسٹم کے تحت چلائے جا رہے ہیں ۔ دنیا کے بہت سے پسماندہ ممالک ٹرانسپرانسی اور کمپیوٹرائزڈ ڈیپارٹمنٹس پالیسی اپنانے کی وجہ سے خوشحال ہوئے جن میں دوبئی اور یورپین ممالک سرفہرست ہیں ۔ گورنمنٹ آف دوبئی نے 2001 کے بعد اپنے تمام محکمہ جات کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کر دیا تھا جس وجہ سے آج وہ دنیا میں ہر لحاظ سے سرفہرست دیکھائی دے رہا ہے ۔

(جاری ہے)

اس وقت صوبہ خبیر پختونخواہ کی صوبائی حکومت تمام سرکاری محکمہ جات کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عزم بار بار کر رہی ہے مگر ماضی میں کمپیوٹرائزڈ کئے گئے ڈیپارٹمنٹس میں کام کرنے والوں کا استحصال ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ان کی بہتری کے لئے کچھ کرتی دیکھائی نہیں دے رہی ۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن ڈیپارمنٹ آف خیبر پختونخواہ کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی آف خیبرپختونخواہ نے 2005 میں کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس ریکارڈزکے نام سے ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا ۔

اس پراجیکٹ پر کل لاگت 168.189ملین روپے آئی ہے ۔کمپیوٹرائزئشن آف پراپرٹی ٹیکس ایکسائز اینڈ ٹیکسٹیشن ڈیپارٹمنٹ میں شفافیت کا باعث سمجھا جا رہا ہے ۔جس وجہ سے ٹیکس صارفین کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ٹیکس ریونیو میں اضافے کا موجب بھی بنا ہے ۔ کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس کی بدولت 2008-9 کے بعد محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسٹشن نے ہمشہ اپنا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیا ۔

اور 2009-10 میں 107% ریکوری حاصل کی۔ اسی طرح 2010-11میں 103% ، 2011-12 میں 99.97% ، 2012-13 میں 99.29% ریکوری حاصل کی گئی ۔ اس وقت صوبہ خیبر پختونخواہ کے عوام اپنی پراپرٹی کی معلومات، خیبرپختونخواہ میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی معلومات اور اپنا ٹیکس ایکسائز کی ویب سائٹ www.kpexcise.gov.pk پر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ماضی میں مینول چالان ، شوکاز نوٹسز ،فائنل نوٹسز کی بروقت فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکتی تھی جس وجہ سے ٹیکس کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔

جبکہ اب تمام ٹیکس ادا کرنے والوں کو ٹائم پر کمپیوٹرئزڈ چالان ، شوکاز نوٹسز ،دستک اور فائنل نوٹس بجھوائے جا رہے ہیں ۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے تمام اضلاع میں ایکسائزکے دفاتر تقریباً کمپوٹرائزڈ کر دئیے گئے ہیں ۔جس سے کافی حد تک کرپشن میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ او ر ٹیکس ادا کرنے والے عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔اس وقت کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس اور پروفنیشنل ٹیکس میں 63 کے لگ بھگ افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

جن کو جولائی 2016 سے تنخواہ نہیں مل رہی اور وہ شدیدعدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ اس پراجیکٹ میں کام کرنے والوں کو محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخواہ سے تنخواہ ملتی ہے جبکہ وہ 2005 سے ایکسائز اینڈ ٹیکسٹشن ڈیپارٹمنٹ کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ پراجیکٹ میں کام کرنے والے افراد نے وزیر اعلی خبیرپختونخواہ پرویز خٹک ، سیکرٹری ایکسائز اور ڈی جی ایکسائز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمپیوٹرائزیشن آف پراپرٹی ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس میں کام کرنے والوں کو تحفظ فراہم کریں اور ان کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کر نے کے ساتھ بروقت تنخواہ فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے