پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا رانا ثناء اللہ کے پی ٹی آئی کی خواتین بارے ریمارکس پر شدید احتجاج ،معافی کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ اور ترجمان حکومت کی معذرت قابل قبول نہیں،رانا ثناء الله ایوان میں آکر اپنے الفاظ واپس لیں اور معذرت کریں ،اگر ایسا نہ کیا تو اپنا احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘اپوزیشن جو زمیندار گندم کیلئے باردانے کی درخواست دیگا حکومت اسکی گندم خریدنے کی پابند ہوگی، کسی کاشتکار کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائیگا‘وقفہ سوالات وقفہ سولات کے دوران حکمران جماعت کے رکن اسمبی وحید گل نے کورم کی نشاندہی کردی ،اسپیکر نے اجلاس آج صبح 10بجے تک کیلئے ملتوی کردیا

بدھ مئی 22:58

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا رانا ثناء اللہ کے پی ٹی آئی کی خواتین بارے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے پی ٹی آئی کی خواتین بارے ریمارکس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رانا ثناء اللہ نے معافی مانگتے ہوئے اپنا بیان واپس نہ لیا تو احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے ، وقفہ سولات کے دوران حکمران جماعت کے رکن اسمبی وحید گل نے کورم کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے اسپیکر نے اجلاس آج جمعرات صبح 10بجے تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت دو بجے کی بجائے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانامحمد اقبال خان کی صدار ت میں شروع ہوا ۔اجلاس میں دو محکموں خوراک اور جیل خانہ جات کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیئے گئے۔ اجلاس کے آغازپر قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون رانا ثناء نے دو روز قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کی خواتین کے بارے میں غیر مہذب ریمارکس دیئے جو قابل مذمت ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم سب ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں،،رانا ثنا اللہ آئے روز اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتے رہتے ہیں ۔۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ترجمان حکومت کی معذرت قابل قبول نہیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ایوان میں آکر اپنے الفاظ واپس لیں اور معذرت کریں اور ہمیں ان کے بیان پر جمع کرائی گئی مذمتی قرارداد آؤٹ آف ٹرن پیش کرنے کی اجازت دی جائے، ۔

صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ ہم قائد حزب اختلاف کی تائید کرتے ہیں کہ خواتین ہم سب کیلئے محترم ہیں اور ہونی بھی چاہئیںلیکن جس واقعہ کی بات میاں محمود الرشید کررہے ہیں وہ اسمبلی کے ایوان میں نہیں باہر ہوا ہے ،یہ ان سے باہر ہی ایسا مطالبہ کریں اور اس مسئلہ پر سیاست نہ کریں۔ پارلیمانی لیڈر رانا ارشد نے کہا کہ خواتین کا احترام ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے لیکن مینار پاکستان میں پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران حوا کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا س کی بھی تو مذمت ہو نی چاہیے ۔

جس پر سپیکر رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ ابھی وزیر قانون ایوان میں نہیں آئے جب آتے ہیں تو ان سے بات کرتے ہیں ۔جس کے بعد وقفہ سوالات کاآغاز کیا گیا ۔۔ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری اسداللہ آرائیں نے کہا کہ اس سال گندم کی خریداری کی پالیسی یہ ہے کہ جو بھی زمیندار گندم کے لئے باردانے کی درخواست دے گا اسے باردانہ ضرور دیا جائے گا اور حکومت اس کی گندم خریدنے کی پابند ہوگی، کسی کاشتکار کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گوداموں میں سٹاک گندم بالکل خراب نہیں ہوتی نہ ہی ضائع ہوتی ہے ۔رکن اسمبلی طارق باجوہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ سانگلہ ہل میں 14500میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ٹاگٹ مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سوالات کے جوابات دینے کے دوران پارلیمانی سیکرٹری چوہدری فقیر حسین ڈوگر کو بار بار طنز کرتے رہے اور روکنے کے باوجود نہ رکے جس کے جواب میں رکن اسمبلی رانا لیاقت نے بھی انہیں بیٹھے بیٹھے تنقید کا نشانہ بنایا ، جس پر خرم شیخ آگ بگولہ ہوگئے ۔

پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد نے کہا کہ جب آپ طنز کررہے تھے وہ ٹھیک تھا اگر جواب آیا ہے تو جذباتی کیوں ہو گئے برداشت کرو ،جو بات کرنی ہے سپیکرسے کرو ۔جس پر خرم شیخ نے بار بار ’’شٹ اپ شٹ اپ ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ۔ سپیکر نے یہ الفاظ کارروائی سے حذف کرا دیئے ۔وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن اسمبلی وحید گل نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر اپوزیشن سمیت تمام حکومتی ممبران حیران رہ گئے ۔

رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ آج قرآن کی تعلیمات کے حوالے سے بل ایوان میں پیش کیا جانا تھا ۔کورم کی نشاندہی پر سپیکر نے پہلے پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی پھر پھر20منٹ کے لئے اجلاس ملتوی کردیا ۔سپیکر دوبارہ ایوان میں آئے تو گنتی کرانے پر کورم پورا نہ ہوا تو اجلاس آج ( جمعرات ) کی صبح 10بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔