48گھنٹے گزر گئے، راولپنڈی پولیس 2صحافیوں پر قاتلانہ حملے کے ملزمان گرفتار نہ کر سکی

صحافیوں کے اہل خانہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا

بدھ مئی 23:03

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) جڑواں شہروں کی پولیس48گھنٹے گزرنے کے باوجود2صحافیوں پر قاتلانہ حملے کے ملزمان گرفتار نہ کر سکی دونوں صحافیوں پر اس وقت گھات میں بیٹھے ملزمان نے فائرنگ کی فائرنگ کے واقعہ کے بعد دونوں صحافیوں کے اہل خانہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے تھانہ وارث خان کے علاقے بھابڑہ بازار میںجیو نیوز کے سینئر رپورٹر ارشاد قریشی پر پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ قریب ہی واقع اپنے سسرال سے واپسی پرگھر کے دروازے پر پہنچ چکے تھے کہ گلی میں پہلے سے موجود دونوجوانوں نے ان پر یکے بعد دیگرے 2فائر کئے تاہم تیسری گولی پستول میں پھنس جانے سے ملزمان لوڈ شیڈنگ کا فائدہ اٹھاکر فرار ہو گئے جبکہ گولیاں ارشاد قریشی کے گھر میں کچن کی دیوار پر لگیںجس پر تھانہ وارث خان پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 324اور34کے تحٹ مقدمہ نمبر404درج کر لیا ادھر تھانہ گولڑہ کے علاقہ ای الیون میںروزنامہ پاکستان کے کرائم رپورٹر فرحان حسین جعفری پر پیر کے روزاسوقت فائرنگ کی گئی جب وہ اپنے برادر نسبتی ابصار مہدی کے ہمراہ ان کے گھرای الیون کے باہر موجود تھے کہ پہلے سے گھات لگائے ملزمان نے ان پر سیدھے فائر کئے تاہم وہ دونوں بھی خوش قسمتی سے محفوظ رہے تھانہ گولرہ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 337-H-iiاور506-iiکے تحت مقدمہ نمبر205درج کر لیا ادھر نیشنل پریس کلب کے صدر طارق چوہدری ،سیکریٹری شکیل انجم ، اراکین گورننگ باڈی وحید جنجوعہ ،صائمہ بھٹی ،پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ ، آر آئی یو جے کے صدر مبارک زیب ،سیکریٹری علی رضا علوی ، ینگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر یوسف خان ، سیکریٹری طاہر نصیرکرائم اینڈ کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر قیصر شیرازی ، سیکریٹری راجہ لیاقت اورآر آئی یوجے (دستور)کے صدر ہارون کمال راجہ ، سیکریٹری خاور نواز راجہ نے فرحان حسین جعفری اورارشاد قریشی پر بزدلانہ قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جڑواں شہروں کی انتظامیہ اور پولیس کے لئے ایک کھلا چیلنج قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ مذکورہ دونوں صحافیوں نے ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور شفاف صحافت کو فروغ دیا ہے افسوسناک اور شرمناک واقعہ کو48گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی انہوں نے کہا کہ فرحان حسین جعفری کے ذاتی رہائش گاہ واقع صادق آباد میں فائرنگ سمیت یہ چوتھا جان لیوا حملہ ہے لیکن راولپنڈی پولیس نے چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات کو جواز بنا کر اس سے پہلے ہی گارڈ واپس لے لیا ہے جس کے لئے نہ صرف نیشنل پریس کلب اور کرائم اینڈ کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے آئی جی پنجاب ،سی پی او راولپنڈی اور ایس ایس پی آپریشنز کو حالات کی سنگینی سے باضابطہ آگاہ کیا جاچکا ہے لیکن راولپنڈی پولیس نے ان کی حفاظت کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرحان حسین جعفری اور ارشاد قریشی کی سکیورٹی کے لئے فوری اقدام کئے جائیں اور فرحان شاہ کو پولیس گارڈ فوری واپس کیا جائے اور دونوں واقعات میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے بصورت دیگر تمام صحافتی تنظیمیں مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گی ۔