کسووال،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کلکٹر اشتمال ساہیوال کا تاریخی فیصلہ ،باپ کی وراثت سے 23 سال بعد بیٹی کو حصہ مل گیا

بدھ مئی 23:19

کسووال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر/ کلکٹر اشتمال ساہیوال کا تاریخی فیصلہ ،باپ کی وراثت سے 23 سال بعد بیٹی کو حصہ مل گیا ،محمد صدیق کی نواحی گاؤں میں 90 کنال اراضی تھی،بیٹے نے سابق تحصیلدار چیچہ وطنی سے ملی بھگت کر کے جعل سازی کرتے ہوئے جائیداد اپنی بیوی کے نام کروا لی تھی،تفصیل کے مطابق نواحی گاؤں 93 بارہ ایل کے رہائشی محمد صدیق کی گاؤں میں 90 کنال اراضی تھی،اور اس کے وارثان میں بیٹا سید رسول اور بیٹی نصرت بی بی ہے،سید رسول نے اپنے باپ کی زندگی میں ہی سابق تحصیلدار چیچہ وطنی سے ملی بھگت کر کے تمام 90 کنال اراضی اپنی بیوی عابدہ نثار کے نام زبانی ہبہ انتقال کروا لیا۔

جس کا علم اس کی بیٹی کو کئی سال بعد اپنے باپ کی وفات کے بعد پتہ چلا،جس پر اس نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر/ لکٹر اشتمال ساہیوال مقدمہ کر دیا۔

(جاری ہے)

جس کا فیصلہ 25 اپریل 2018 کو ہواعدالت نے میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے محمڈن لاء کے تحت 1/3 کے حساب سے نصرت بی بی کو اس کا حصہ 30 کنال دینے کا حکم صادر کر دیا ،نصرت بی بی اس وقت 275 ای بی بوریوالا میں رہائش پزیر ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بیٹیوں کے حصے غصب کرنے والوں کے منہ پرطمانچہ ہے واضع رہے کہ محمد صدیق جب تک زندہ رہا اپنی بیٹی کو اپنی جائیداد میں سے پیداواری حصہ اپنی بیٹی کو دیتا رہا۔ہڑتال کے دوران انتظامیہ کے حکم پر میڈیکل اسٹور کھولنے والوں کو مقامی کمیسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے کہنے پر دوسرے روز بھی دواؤں کی سپلائی بند رہی۔

ہم نے اسٹور انتظامیہ کے حکم پر کھولا اس میں ہمارا کیا قصور ہے،اسٹور مالکان کی دہائی،تفصیل کے مطابق ہڑتال کے آخری روز انتظامیہ کے حکم پر میڈیکل اسٹور کھولنے والے دوکان دارکے خلاف مقامی نام نہاد کمیسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن نے ایکشن لیتے ہوئے کمپنیوں کو مذکورہ بالا میڈیکل اسٹور کو دوائیں سپلائی کرنے سے منع کر رکھا ہے،جس کی وجہ سے میڈیکل اسٹور مالکان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے،مالکان کا کہنا ہے کہ ہم سے اسٹور انتظامیہ نے کھلوایا اب انتظامیہ اس مسئلہ کو حل کرواے اس نام نہاد کمیسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن نے کبھی اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں جو نشہ آور ٹیکوں سمیت تمام ممنوعہ دوائیں فروخت کرتے ہیں کے خلاف کبھی بھی کاروائی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ،عوامی و سماجی حلقوں نے بھی ایسوسی ایشن کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے

متعلقہ عنوان :