کثیر الوجود معاشرے میں رواداری ، تحمل اور بردباری جیسے عوامل کو عام کر کے اظہار رائے کو متوازن اور معتدل بنایا جا سکتا ہے،

نفرت انگیز تقاریر اور قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس حوالے سے باہمی اتفاق رائے کے لئے علماء ، پارلیمان، سماجی اداروں، دانشوروں ، طلباء ، اساتذہ، سیاسی اکابرین بالخصوص نوجوان نسل کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، معاشرے کی مثبت خطوط پر تعمیر نوجوان نسل کی طرف سے بہترین اور پائیدار سرمایہ کاری ثابت ہو گی ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام بین الاقوامی مباحثہ میں یورپی یونین کے نمائندہ جان فیگل ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، ایم این اے رومینہ خورشید عالم اور دیگر کا اظہار خیال

بدھ مئی 23:19

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پالیسی برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام بین الاقوامی مباحثہ کے شرکاء نے کہا ہے کہ کثیر الوجود معاشرے میں رواداری ، تحمل اور بردباری جیسے عوامل کو عام کر کے اظہار رائے کو متوازن اور معتدل بنایا جا سکتا ہے، نفرت انگیز تقاریر اور قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس حوالے سے باہمی اتفاق رائے کے لئے علماء ، پارلیمان، سماجی اداروں، دانشوروں ، طلباء ، اساتذہ، سیاسی اکابرین بالخصوص نوجوان نسل کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، معاشرے کی مثبت خطوط پر تعمیر نوجوان نسل کی طرف سے بہترین اور پائیدار سرمایہ کاری ثابت ہو گی۔

اس امر کا اظہار پالیسی برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی مباحثہ برائے ’’کثیر الوجود معاشرے میں ہم آہنگی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ‘‘ کے موضوع پر کیا گیا۔

(جاری ہے)

جس میں یورپ سمیت ایشیا سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ مباحثہ میں یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی آزادی و امور، جان فیگل ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز، رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم ، ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر السلام اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ جان فیگل نے کہا کہ ہم تیزی سے تنزلی کی طرف بڑھتے ہوئے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں مذاہب میں خلیج بڑھ رہی ہے۔ اسی کے سبب عدم برداشت ، سماجی رواداری اور عدم توازن جیسے مسائل میں اضافہ بڑی مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بشمول یورپی یونین کو ان مشکلات کے حل کے لئے مشترکہ اہداف کی نشاندہی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جس کے ذریعے باہمی احترام ، قبولیت اور رواداری جیسے مقاصد کو مل کر حل کیا جا سکے۔ کثیر الوجود معاشرے کو درپیش ایسی مشکلات سے عہدہ برا ہ ہونے کی ذمہ داری معاشرے کے نمائندہ افراد کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے، ان کو ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل کر لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے تاکہ امن اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے جس میں ہر فرد کی قبولیت ممکن ہو سکے۔

مباحثہ کے پہلے روز اظہار خیال کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے معاشروں کے ارتقائی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں رو نما ہو ئی ہیں جس سے ان کی ہیئیت پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں ایک دوسرے کے تجربات اور مشاہدات سے سیکھنا چاہئے۔ قبلہ ایاز نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی نسلوں کو احترام اور باہمی رواداری کا درس دیتے ہوئے مثبت راہِ عمل دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا ہ 1973کا دستور مستند دستاویز ہے جس میں معاشرے کو در پیش متعدد مسائل کا کافی حد تک حل موجود ہے۔ مباحثہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل (ر) ظہیر السلام نے کہا کہ کثیر الوجود معاشرے کے لئے اکیسویں صدی کی بڑی مشکلات میں مذاہب میں رابطہ کاری کا فقدان ، عدم تحفظ و برداشت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے معاشرے میں تنوع کی خاصی گنجائش ہے، مذہبی اور سیاسی اکابرین کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے ان مقاصد کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی ورنہ سماجی انضمام سست روی کا شکار ہوتا چلا جائے گا اور معاشرے میں ابتری مزید بڑھے گی۔

مباحثہ کے ابتدائیہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹرعابد قیوم سلہری نے کہاکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو معاشرے میں امن اور مثبت خطوط پر تعمیری ڈھانچے کی مضبوطی کیلئے مشترکہ ستون دینا ہوں گے۔ دہشت گردی ، انتہا پسندی ، برداشت باہمی جیسے اہداف پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد امن اور برداشت باہمی سے مضبوط ہو سکتی ہے۔

اس کے لئے ضروری ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے سنہری اصول ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین محکم سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ ڈاکٹر عابد سلہری نے آئین کے آرٹیکل 28, 27, 26, 25, 21, 20 اور 36 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرٹیکل شہریوں کے حقوق کے مکمل تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں جس میں اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نقاط15, 9, 5 اور 18 بھی اسی امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند اور پائیدار معاشرے کی تشکیل کے لئے احترام و برداشت باہمی کاماحول ناگزیر عمل ہے۔ رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ کثیر المذاہب معاشرے میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ توازن اور برداشت کی فضا ء کو فروغ دیا جائے۔ ریاست اور شہری اس پر مل کر کام کریں تاکہ رواداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایس ڈی پی آئی کے شکیل رامے نے بھی مباحثہ کی افادیت سے آگاہ کیا۔ مباحثہ میں تمام مذاہب اور فرقہ کے نمائندہ افراد زشریک ہوئے۔