پولیس سے سپنا خان کی بازیابی کیلئے ہونے والی تفتیش کی تفصیلات طلب کر لیں

بدھ مئی 23:21

لاہور۔2 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کی مبینہ بیوی اور اداکارہ سپنا خان کی بازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور پولیس سے سپنا خان کی بازیابی کیلئے ہونے والی تفتیش کی تفصیلات طلب کر لیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپنا خان کی بازیابی کیلئے درخواست پر سماعت کی گئی جس میں پولیس کے سست روی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ سابق وزیر اعلی دوست کھوسہ نے سپنا خان سے شادی کی جس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔ 2012ء میں مقدمہ درج ہوا تھا لیکن ابھی تک سپنا خان کو بازیاب نہیں کیا جا سکا۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ آئی جی پنجاب سپریم کورٹ میں اہم شخصیات سکیورٹی کیس میں مصروف ہیں۔

(جاری ہے)

فاضل جج نے کہا کہ جن لوگوں کو سکیورٹی دینی ہوتی ہے خود ہی ان کے متعلق رپورٹ بنا کر بم پروف گاڑیاں دے دیتے ہیں۔

فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ چھ سال سے زیر التوا ہے آج تک انوسٹی گیشن مکمل نہیں ہوئی۔ نئی تفتیشی ٹیم کتنا وقت لے گی بتا دیا جائے۔ جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ایک انسان لاپتہ ہوا ہے، کوئی بلی کا بچہ نہیں ،کون اسے ڈھونڈ کر لائے گا۔ بظاہر تفتیش میں تاخیر ایک فریق کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ مقدمہ کی تفتیش کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو معاملے کی چھان بین کر رہی۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے آئی جی کو 21 مئی کو تفتیش مقدمات کے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔