قومی اسمبلی اجلاس، خواتین کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی

تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین سیاسی ورکر ہر ایک کیلئے قابل احترام ہونی چاہیں، اگر خواتین کی باہر عزت نہیں ہوگی تو خواتین ارکان پارلیمنٹ کی بھی کوئی عزت نہیں کریگا، اراکین قومی اسمبلی کا اظہار خیال خواتین ملک کے کسی بھی کونے سے ہوں ہمارے لئے قابل احترام ،عزت کیخلاف جو بھی بات کرتا ہے اس کی مذمت کروں گا، سپیکر سردار ایاز صادق

بدھ مئی 23:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) اراکین قومی اسمبلی نے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے خواتین کیلئے نا مناسب الفاظ استعمال کرنے کیخلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہا کہ عورت کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے،تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین سیاسی ورکر ہر ایک کیلئے قابل احترام ہونی چاہئیں، اگر خواتین کی باہر عزت نہیں ہوگی تو خواتین ارکان پارلیمنٹ کی بھی کوئی عزت نہیں کریگا،اگر مائنڈ سیٹ نہیں بدلے گا اور پارلیمنٹ سے پیغام نہیں جائیگا تو حالات نہیں بدلیں گے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ خواتین ملک کے کسی بھی کونے سے ہوں وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں ، خواتین کی عزت کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے اس کی مذمت کروں گا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ۔

(جاری ہے)

اجلاس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز شب برات تھی آج دن ہے اللہ سے معافی مانگ لی تھی میری طرف سے کسی رکن یا قومی اسمبلی کے سٹاف کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ خواتین کی عزت و آبرو پورے ملک کا معاملہ ہے، بعض شخصیات کی طرف سے خواتین کے خلاف استعمال کئے گئے نازیبا الفاظ سے ہر ماں، بہن اور بیٹی والے کو دکھ ہوا ہے۔

ہم ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہیں جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہماری ماں، ہماری ہمشیرہ اور ہماری بیٹی بھی خاتون ہے، خاتون جس گھرانے اور جہاں سے بھی آتی ہوں پورا ایوان یہ سمجھتا ہے کہ ان سب کا احترام کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات اچھی بات نہیں، ہم شریف گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی زبان میں جواب نہیں دے رہے، ہمارے صبر کو زیادہ نہ آزمایا جائے، یہ زبان استعال کرنے والے کو ایوان میں معافی مانگنی چاہیے جس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ خواتین کی عزت کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے میں اس کی مذمت کروں گا۔

پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ خواتین کی بتدریج حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور ان کا استحصال ہو رہا ہے۔ سپیکر کا اس حوالے سے بیان حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر خواتین کیلئے ماحول بہتر نہیں رہا، عورت نے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی بن کر اپنی ذمہ داری ہمیشہ بہادری سے نبھائی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے فوری ایکشن لینا چاہیے تھا۔

سندھ اسمبلی میں واقعہ ہوا تو صوبائی وزیر کو معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ اگر خواتین کی باہر عزت نہیں ہوگی تو خواتین ارکان پارلیمنٹ کی بھی کوئی عزت نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مائنڈ سیٹ نہیں بدلے گا اور پارلیمنٹ سے پیغام نہیں جائے گا تو حالات نہیں بدلیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ عورت ماں، بہن، بیٹی، بیوی سمیت کسی بھی شعبہ سے ہو اس کی عزت و حرمت سب پر لازم ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے رانا ثناء اللہ کے بیان پر معذرت کی اس کے بعد ہمیں دل صاف کرلینا چاہئے۔ ہمیں ایسے الفاظ کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ ہر خاتون سیاسی ورکرز تمام مردوں کے لئے اور ہمارے لئے قابل احترام ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے کہا کہ اللہ نے عورت کو تخلیق کا ذریعہ بنایا، اس پارلیمنٹ میں ہم اصلاح احوال اور عوام کی خدمت کا مینڈیٹ لے کر آتے ہیں۔

عورت کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ یہ الفاظ کسی ایک عورت کے خلاف نہیں تمام عورتوں کے خلاف ہیں۔ جو لوگ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں انہیں ایوان میں معافی مانگنی چاہیے اور ان کے لئے سزا بھی ہونی چاہئے۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان وزراء کی جانب سے پی ٹی آئی کی خواتین کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کی مذمت کرتا ہے جس کی قومی اسمبلی نے منظوری دے دی۔