بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، تجارتی خسارہ تشویش ناک ہے، پرویزملک

وفاقی بجٹ میں کوئی منفی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،بجٹ میں صنعتوں کو ٹیکسوں میں مراعات دی گئی، وفاقی وزیرتجارت ایکسپورٹ ایک کمزور شعبہ رہا لیکن گزشتہ آٹھ دس ماہ سے اضافہ ہوا اب تک 14 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے، ایف پی سی سی آئی میں خطاب

بدھ مئی 23:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وفاقی وزیر تجارت وٹیکسٹائل محمد پرویز ملک نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں کوئی منفی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،،بجٹ میں صنعتوں کو ٹیکسوں میں مراعات دی گئی ہے،،بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں، ،تجارتی خسارہ تشویش ناک ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دورے مے موقع پر بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر مظہر علی ناصر ،سابق سی ای او ٹی ڈیپ ایس ایم منیر ،زبیر طفیل ،،ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ ،حنیف گوہر ،زاہد سعید ،گلزار فیزرز ،شکیل ڈھینگڑانے بھی خطاب کیا اور تاجر وصنعتکاروں کو درپیش مسائل کے بارے میں وفاقی وزیر کو آگاہ کیا محمد پرویز ملک کا مزید کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی کی تکلیف جائز ہے ،ایکسپورٹ ایک کمزور شعبہ رہا لیکن گزشتہ آٹھ دس ماہ سے اضافہ ہوا اب تک 14 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے ،ایکسپورٹرز کی محنت کے ساتھ نواز شریف کا فراہم کردہ ایکسپورٹ پیکج بھی معاون ثابت ہوا محمد پرویز ملک نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی بجلی کا بحران کم ہوا ہے ،،پاکستان بڑی صنعتوں کے قیام کے لئے موزوں ملک بن کر ابھر رہا ہے ،،کراچی :بزنس کمیونٹی کے ساتھ ایک جامع میٹنگ منعقد کی جائے گی ، تمام متعلقہ وزارتوں کے ساتھ وزارت تجارت کا اجلاس جلد بلایا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت اہم مسئلہ ہے،،بجٹ سے متعلق مسائل پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ،تجارتی خسارہ قابل تشویش ہے، درآمدات کم کرنے کے ساتھ ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے،پاک چین ایف ٹی اے دوسرا رائونڈ موخر ہونا مقامی صنعت کے لئے اچھا اقدام ہے، حکومت نے آخری وقت میں پاک چین ایف ٹی اے دوسرا رائونڈ موخر کیا، وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک چین آزاد تجارت کا معاہدہ پر بزنس کمیونٹی کا موقف قابل تعریف ھے،یوٹیلیٹی کی لاگت میں گردشی قرضوں کا بہت حصہ ہے،حکومت کے پاس تھوڑا وقت رہ گیا، برآمدات میں رکاوٹوں کی نشاندھی کے لئے خصوصی اسٹڈی کرانے کی ضرورت ہے۔