مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بائیکو پیٹرولیم منافع بڑھ کر 3.42 ارب روپے ہوگیا، تیسری سہ ماہی میں منافع دو گنا بڑھ گیا

بدھ مئی 23:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان میں اپنی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کی حامل واحد آئل کمپنی بائیکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ (بی پی پی ایل) نے 31 مارچ 2018 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران شاندار کارکردگی کے اظہار کے ساتھ 3.42 ارب روپے کے بعد از ٹیکس منافع کا اعلان کیا ہے۔ اسی عرصے کے مقابلے میں پچھلے مالی سال میں بائیکو کا خسارہ 12.8 کروڑ روپے تھا۔

بائیکو کی فی شیئر آمدن گزشتہ سال اسی عرصے میں 0.02 روپے خسارے کے مقابلے میں بڑھ کر 0.64 روپے ہوگئی ہے۔ اس9 ماہ کے عرصے کے دوران بائیکو کا آپریٹنگ منافع گزشتہ مالی سال میں 2 ارب روپے کے مقابلے میں اب تین گنا اضافے سے 5.74 ارب روپے ہوگیا۔ منافع میں اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ مجموعی کاروبار 71 فیصد اضافے سے 138.94 ارب روپے ہوگیا ہے ۔

(جاری ہے)

اس عرصے میں کمپنی کا خالص کاروبار مالی سال 2017 کے اسی عرصے کے مقابلے 73 فیصد اضافے سے 107.57 ارب روپے ہوگیا ہے۔

31 مارچ، 2018 کو اختتام پذیر ہونے والی تیسری سہ ماہی پر بائیکو نے گزشتہ سال اسی عرصے میں 147.58 ملین روپے کے نقصان کے مقابلے میں 1.13 ارب روپے کے بعد از ٹیکس منافع کا اعلان کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 31 مارچ 2018 کو اختتام پذیر ہونے والی سہ ماہی کے لئے اسکا فی شیئر منافع 0.21 روپے رہا جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 0.03 روپے تھا۔ مالی سال 2018 کی تیسری سہ ماہی میں بائیکو کا آپریٹنگ منافع مالی سال 2017 کے اسی عرصے میں 530.8 ملین روپے کے مقابلے میں تین گنا اضافے سے 1.88 ارب روپے ہوگیا ہے ۔

اس منافع میں اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ مجموعی کاروبار گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 29.4 ارب روپے کے مقابلے میں دو گنا بڑھ کر 57.9 ارب روپے ہوگیا ہے۔ اسی سہ ماہی کے دوران گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے مقابلے میں بائیکو کا خالص کاروبار 94 فیصد کے بھرپور اضافے سے 44.94 ارب روپے ہوگیا ہے۔