حکومت آٹزم بارے عوامی شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے فوری اقدامات یقینی بنائے،ماہرین

بدھ مئی 23:34

فیصل آباد۔2 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) دنیا بھر میں آٹزم کا شکار بچوں کی بحالی کیلئے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں مگر بد قسمتی سے پاکستان میں اس بڑھتے ہوئے مرض کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی لہٰذا حکومت آٹزم کے بارے میں عوامی شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے فوری اقدامات یقینی بنائے ۔ اس ضمن میںآٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر ز ریسورس سنٹر کے زیر اہتمام مقامی ٹیکسٹائل ملز کے اشتراک سے آٹزم کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے مقامی ہوٹل میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں پنجاب میڈیکل کالج سمیت مقامی کالجز ، یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات ، ڈاکٹرز ، فزیو تھراپسٹس،والدین اور سول سوسائٹی کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پرماہرین آٹزم نے بتایا کہ آٹزم سنٹر فیصل آباد اپنے قیام سے لیکر اب تک لاتعداد آٹزم کے شکار بچوں کیلئے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے اور اب تک آٹزم کے شکار لاتعداد بچے اور ان کے والدین اس ادارے کی خدمات سے مستفید ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈرز ریسورس سنٹرکا مقصد وسیع پیمانے پر تربیت یافتہ اساتذہ اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے لوگوں کو آٹزم کیلئے تیار اور لرننگ ڈس ایبیلیٹیز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ان کے ادارے کا بنیادی مقصد پورے ملک میں آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈرز کے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور والدین اور اساتذہ کو آٹزم کیلئے تیار کرنا ہے ۔ انہوںنے آٹزم کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں آٹزم کے شکارلوگوں کی بحالی کیلئے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں آگہی کی کمی کی وجہ سے آٹزم پر کوئی کام نہیں ہو رہا اور والدین کی بہت بڑی تعداداپنے بچوں میں آٹزم کی علامات سے متعلق لاعلم ہوتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موجود ہسپتالوں ، کالجوں ، سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں موجودہ سہولتوں میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ آٹزم ایک ذہنی اختلال ہے جبکہ آٹزم کے شکار لوگ ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔انہوںنے توقع ظاہر کی کہ حکومت دیگر موذی امراض کی طرح آٹزم کے خاتمہ کیلئے بھی اپنے تمام وسائل بروئے کار لا ئے گی۔