2013کی طرح آئندہ عام انتخابات میں کسی کو مینڈیٹ چرانے نہیں دیں گے،سرداراختر جان مینگل

باپ کو لاکر الیکشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں ،گوادر کے عوام کو پینے کا پانی تک میسر نہیں،بلوچستان کے عوام کی زندگیا ں غیر محفوظ ہیں ،ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب یہاں کے منتخب نمائندوں کو ساحل وسائل پر اختیار دیا جائے ،سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل)

بدھ مئی 23:32

پنجگور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابقہ وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ2013کی طرح آئندہ عام انتخابات میں کسی کو مینڈیٹ چرانے نہیں دیں گے، باپ کو لاکر الیکشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں ،گوادر کے عوام کو پینے کا پانی تک میسر نہیں،،بلوچستان کے عوام کی زندگیا ں غیر محفوظ ہیں ،ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب یہاں کے منتخب نمائندوں کو ساحل وسائل پر اختیار دیا جائے ،،بلوچستان میں ظلم اور زیادتی کا خاتمہ نوجوانوں میں روزگار کی فراہمی ،عوام کے عزت نفس کی حفاظت، مریضوں کو زندگی کے بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمارا پارٹی منشور اور ہماری جدوجہد کا مقصد ہے انہوں نے یہ بات بدھ کو پنجگور میں معروف قبائلی و سیاسی شخصیت اور صوبائی اسمبلی کے سابقہ امیدوارحاجی عبدالغفار شمبے زئی، حاجی عبیداللہ بلوچ وقار آسکانی ،حاجی ناصرکریم،محمد یونس مراد زئی اور سینکڑوں کی تعداد میں اپنے قبائل عزیز و اقارب اور دوستوں کے ساتھ بی این پی عوامی سے مستعفی ہو کر بی این پی(مینگل) میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر بی این پی کے مرکزی نائب صدر ولی کاکڑ، سی سی ممبر حاجی لشکری رئیسانی،پروفیشنل سیکریٹری ڈاکٹر غفور بلوچ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نزیر احمد بلوچ،میر ہمایوںعزیز کٴْرد، سی سی ممبر حاجی زاہد حٴْسین بلوچ، ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ معروف قبائلی شخصیت حاجی عبدالغفار شمبے زئی نے بھی خطاب کیا، سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ وزیروں کی موجودگی سے کیا یہاں کے مسائل میں کمی ہوئی ہے یہ چیزیں اس وقت ممکن ہیں کہ ہمیں اختیار ملے اگر اختیار ملے تو یہاں کے عوام کے تمام مسائل حل ہونگے یہ وزارت اور عیاشیاں تو سالوں سے چلی آرہی ہیں لیکن یہاں کے عوام کی زندگی میں کوئی مثبت فرق نہیں آیا ہے پورے بلوچستان میں زندگی کے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں نہ مسلمان اورنہ کوئی اور فرقہ یہاں محفوظ ہے روزگار تو دیئے جاتے ہیں لیکن کسی کی عزت نفس اور کسی کی زندگی محفوظ نہیں ہے ہم اس طرح کے اقتدار کے خواہاں نہیں جہاں ہماری عزت نفس محفوظ نہ ہو انہوں نے کہا کہ بی این پی ایک قومی اور جمہوری پارٹی ہے ہر دور میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں باپ کے نام سے ایک پارٹی کو لاکر الیکشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں لیکن اس بار 2013کی طرح کسی کو اپنا مینڈیٹ چرانے کی اجازت نہیں دیں گے عوام صرف الیکشن کیلئے تیار نہ ہو جائیں بلکہ شعوری طور پر تیار ہو اب اس طرح نہیں چلے گا اگر ہماری مینڈیٹ کو چرایا گیا تو یہاں کے عوام کے ساتھ مل کر سڑکوں پر نکل آئیں اور مینڈیٹ چرانے والوں کے خلاف اپنی آواز کو بلند کریں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کی باتیں ہو رہی ہیں لوگوں کی روزگار کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ترقی بجلی گیس اور پانی کے بغیر ناممکن ہی. پانی انسانی زندگی کا ایک اہم جٴْز ہے لیکن گوادر کی بجلی پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے گوادر کے پیاسے باسیوں کو ہم کس طرح یہ بتا سکیں گے کی گوادر واقعی ترقی کر رہا ہے اس ترقی کے بدلے میں ہمارے قبرستان آباد ہوئے ہیں اور لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے چلے گئے ہیں سردار اختر مینگل نے کہا کہ ترقی کے بدلے اپنی عزت نفس کی مجروح ہونے کے علاوہ نوجوانوں کی بے روزگاری کو برداشت نہیں کریں گے بی این پی اس وقت بلوچستان میں واحدقوم پرست پارٹی ہے جو بلوچستان کے ساحل وسائل کی تحفظ اور بلوچ عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے بی این پی کی اس سرزمین سے دوستی اور قوم پرستی کے جزبے نے بلوچستان کے عوام کو ایک امید کی کرن دی ہی.بی این پی اس سرزمین پر رہنے والوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہی ہی..بلوچستان کے حقوق اور وسائل کو لوٹنے والے موجود دور کے نام نہادقوم پرست ہیں جنہوں نے قوم پرستی کا لبادہ اوڈھ کر یہاں کے معدینیات اور دیگر وسائل کو لوٹا ہی.اگر بلوچ قوم.اس سرزمین پر ایک بہتر زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں تو اٴْنہیں ہمارے ہاتھ مضبوط کر نے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان خود پسماندہ نہیں ہے بلکہ پسماندہ رکھا گیا یے اور ہم اٴْن ہاتھوں کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں جو بلوچستان کو پسماندہ رکھنے کے زمہ دار ہیں ہم نے تمام جمہوری طرز طریقوں کا آزمایا ہے لیکن پھر بھی یہ پسماندگی ہمیں چھوڈنے والا نہیںبلوچستان کی پسماندگی کو ختم کرنے کیلئے بناوٹی سیاست دانوں کے کردار کو ختم کرنے اور اصل عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ تک لانا ہے انہوں نے کہا بلوچ اور بلوچستان پر اعتماد کرنے سے یہاں سے پسماندگی ختم ہو سکتی ہے گزشتہ کئی سالوں سے اس سرزمین کے وسائل کو لوٹنے والوں نے اس سرزمین پر رہنے والوں پر ایک فیصد توجہ نہیں دیا ہے انہوں نے کہا لاہور کے حکمرانوں نے پورے ملک کو لوٹ کر صرف لاہور کو خوبصورت بنایا ہے اور بلوچستان کی سرزمین سے وسائل کو لوٹنے والوں نے ایک بار اس سرزمین کے غیور عوام کی طرف نہیں دیکھا ہے