علم مومن کیلئے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، ڈاکٹر واسع شاکر

اللہ نے انسان کو کا ئنات پر غور فکر اور تدبر کر نے کا حکم دیا ہے ،یہی غور فکر اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی

بدھ مئی 23:42

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر واسع شاکر نے کہا ہے کہ علم مومن کیلئے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اللہ نے انسان کو کا ئنات پر غور فکر اور تدبر کر نے کا حکم دیا ہے اور یہی غور فکر اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی علاقہ عمربن خطاب کے تحت 5A/1 نارتھ کراچی مسجد عثمان غنی میں تربیتی اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ خود کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچائو، ہر شخص کو اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، دین سے تعلق مضبوط کر نا ہے، نیک اولاد والدین کے لیے صدقہ جاریہ ہے، بچوں کو اسلامی اور اخلاقی تعلیم دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام سے لگائو اور بہتر شعور کے ذریعے ہی ہم اپنے معاشرے کو بگاڑ اور بدامنی سے بچاسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین بچوں کے دوست بنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دعوت کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو تبدیل کرنا ہی نبیؐ کی سنت ہے رب کی زمین پر رب کا نظام ہی جماعت اسلامی کی بنیادی دعوت ہے جو دین کی دعوت لوگوں تک پہنچا کران کی زندگیاں تبدیل کرنے کا کام کر رہی ہے۔ معروف دانشور شاہنواز فاروقی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہی پاکستان کو بحران سے نکال سکتی ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا لیکن یہاں اسلام کے بجائے لادینی قوتوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ عوام وکارکنان تبدیلی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع وسطی محمد یوسف نے کہا کہ دین اور سیاست الگ چیز نہیں ہیں، ہم پُرامن جدوجہد کے ذریعے پاکستان میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی غلبہ دین کی تحریک ہے یہ لوگوں کو رب کے راستے پر چلانے کیلئے وجود میں آئی ہے۔

جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر تبدیلی عوام کی تائید سے آئے گی جس کا مقصد پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانا ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی زون نارتھ کراچی فیصل جمیل نے کہا اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق امت کو سیرت وکردار کی تعمیر کے ساتھ اصلاح معاشرہ اور معاشرتی برائیوں کیخلاف جہاد نہ صرف وقت کی ضرورت بلکہ ہر امت کا دینی فریضہ بھی ہی#