قومی اسمبلی کا اجلاس ،اپوزیشن کی جانب سے رانا ثناء اللہ کے بیان کی شدید مذمت

خواتین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے ، ہماری برداشت کا امتحان نہ لیا جائے،کچھ شرم و حیا کر کے اپنے الفاظ پر غور کریں،شیریں مزاری،شازیہ مری ودیگر کا بحث کے دوران اظہار خیال ایوان خواتین کا احترام کرتا ہے،جو نہیں کرتا اس کی مذمت کرتا ہوں،سپیکر قومی اسمبلی

بدھ مئی 23:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے رانا ثنااللہ کے خواتین بارے ریمارکس کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیا۔۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں رانا ثناء اللہ کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ خواتین کے بارے میں جو الفاظ استعمال ہوئے بہت اہم ایشو ہے لہذااس معاملے پر بجٹ بحث سے پہلے بات کی جائے۔ سپیکر ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تجویز پر رانا ثناء اللہ کے بیان پر بحث کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین جیسی بھی ہوں دنیا کے جس کونے سے بھی ہوں احترام کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں خواتین کا احترام لازم ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ ن لیگی وزرا خواتین کو گالیاں دیتے ہیں،بیہودہ الفاظ استعمال کرتے ہیں،جب ایوان میں میرے لیئے نازیبا الفاظ استعمال کیئے گئے تو روکنا چاہیئے تھا۔

(جاری ہے)

اس وقت سخت ایکشن ہوتا تو شاید اج یہ نہ ہوتا،ان الفاظ پر معافی مانگی جائے اور ہماری برداشت کا امتحان نہ لیا جائے،کچھ شرم و حیا کر کے اپنے الفاظ پر غور کریں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ خواتین کے لیے جو زبان استعمال کی جاتی ہے قابل مذمت ہے،جو زبان خواجہ آصف نے استعمال کی اس پر آج تک معافی نہیں مانگی،،عابد شیر علی نے میرے لیے جو زبان استعمال کی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،رانا ثنااللہ نے جو گندی زبان استعمال کی ہم نہیں کرنا چاہتے،یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم یہ زبان استعمال نہیں کر سکتے،ہم شریف خاندان سے ہیں ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا،یہ رویہ ناقابل برداشت ہے جو ن لیگ کے اراکین نے اپنایا ہوا یے،پی ایم ایل این کے لیڈر شرم کریں اور مذمت کریں،اس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ ایوان خواتین کا احترام کرتا ہے،جو خواتین کا احترام نہیں کرتا اس کی مذمت کرتا ہوں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ صوبائی وزیر اور دیگر سیاسی لوگوں کی جانب سے خواتین کے خلاف ریمارکس قابل مذمت ہیں،خواتین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے،کسی کو طعنہ دینا ہو کہا جاتا ہے چوڑیاں پہن لو ،چوڑی پہننا کوئی گالی نہیں ہے ،جس جماعت کے لوگوں نے بیانات دیے اس جماعت کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے ،،سوشل میڈیا کی بجائے مائیک پر معافی مانگی جائے،معاشرے میں خواتین کو مذاق بنا دیا گیا ہے ،جو دوسری جماعت کی خواتین کی عزت نہیں کرتے ، اپنی جماعت کی خواتین کی بھی عزت نہیں کرتے ،خواتین کو ہراساں کرنا اب قومی مسئلہ ہے ،،پارلیمنٹ سے خواتین کے حق میں آواز جانی چاہیے ،وفاقی وزیر نے ایوان میں ایک رکن کے بارے میں توہین امیز ریمارکس دیے تھے۔

سپیکر نے اس موقع پر کہا کہ خواتین کسی بھی گھرانے سے ہو وہ قابل احترام ہیں۔رکن اسمبلی عائشہ سید نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی عزتوں کو اداروں میں اچھالا جا رہا ہے،اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا تربیت کو ظاہر کرتے ہیں،انہیں ایوان سے معافی مانگنی چاہیے،ہمیں اپنے جلسوں میں بھی خواتین کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے،افسوسناک ہے یہ ہم مذمت کرتے ہیں۔

رکن اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ رانا ثنااللہ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں،خاتون،ماں بہن اور بیٹی ہے،،شہباز شریف نے معافی مانگی اور مذمت کی، انہوں نے معذرت کر لی تو معاملہ ختم کر دینا چاہیے،ہر خاتون سیاسی کارکن کی عزت کی جانی چاہیے۔جے یو آئی کی رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ آپس کی لڑائی میں خواتین کو نہ گھسیٹا جائے ،خواتین کے بارے میں ریمارکس پر ایکشن لیا جائے۔افسوس ہے کہ ایوان میں بھہ ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جس پر ہمیں شرم آئی،عورت کی مسلسل تضحیک کی جاری ہے۔ایوان کو اس معاملے کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔