سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا ملکی و غیرملکی قرضوں میں اضافے پر اظہار تشویش

غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم سے کم کیا جائے ،حکومت قرضوں کی واپسی کا پروگرام فراہم کرے ،کمیٹی جماعت اسلامی کی کراچی کو پانچ سو ارب روپے کا خصوصی پیکیج دینے کی تجویز وٹنری ویکسین پر ٹیکس ڈیوٹی 12فیصد سے کم کرکے 10فیصد کرنے کی تجویز

بدھ مئی 23:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بڑھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے قرضوں کی واپسی کا پروگرام طلب کرلیاجبکہ جماعت اسلامی نے کراچی کو پانچ سو ارب روپے کا خصوصی پیکیج دینے کی تجویز دے دی جبکہ وٹنری ویکسین پر ٹیکس ڈیوٹی 12فیصد سے کم کرکے 10فیصد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر فاروق نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے بڑھتے ہوئے قرضوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ریکارڈ قرضے لیے ہیں۔ یہ قرضہ آنیوالی نسلیں بھی نہیں اتار سکیں گی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت غیر ملکی قرضوں کی واپسی کا پروگرام پیش کرے ، غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم سے کم کیا جائے اجلاس میں جماعت اسلامی نے کراچی کے لیے پانچ سو ارب روپے کے خصوصی پیکیج کی تجویز دے دی۔

(جاری ہے)

وفاقی حکومت کراچی کے لیے 500 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کرے وفاق کراچی کے لیے 500 بسیں خرید کر دے کراچی سرکلر ریلوے اور گرین لائن منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرے۔ کمیٹی نے معاملے پر تفصیلی بحث کرنے کا اعلان کردیا۔ پی ٹی آئی کے رکن سینیٹر محسن عزیز نے الزام لگایا کہ بجٹ میں معاشی اعداد و شمار میں غلط بیانی کی گئی ہے۔ حکومت نے دو ہزار ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔

بجٹ خسارے میں ایک ہزار ارب روپے کے سرکلر ڈیبٹ کو شامل نہیں کیا گیا قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی رقم میں غلط بیانی کی گئی جب کہ ٹیکس ری فنڈز جاری کرنے کے کیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ۔ کمیٹی نے ڈبہ پیک دودھ کی درآمد پر ٹیکسوں کی شرح 45 سے 50 فیصد کرنے کی ، بیلوں کی درآمد پر ٹیکس ختم کرنے ، اورمچھلیوں کی افزائش نسل کے لیے سیلز ٹیکس 26 فیصد سے 5 فیصد کرنے جب کہ فروزن مچھلی کی درآمد پر ٹیکسز 45 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کرنے کی تجویزکو منظور کرلیا ۔

کمیٹی نے سولر ٹیوب ویل کی درآمد کے لیے بلا سود قرضے فراہم کرنے اور بہترین ٹیکس فائلرز کو تمغہ جات دینے کی سفارشات کی منظوری دے دی۔۔بجٹ میں تجاویز پیش کرتے ہوئے سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے ایگریکلچر کو نظر انداز کیا جارہا ہے‘ ملک میں پولٹری‘ ویٹرنری ویکسین بہت مہنگی ہوئی ہے جس پر ڈیوٹی اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد کی جائے اور اس کے علاوہ ویکسین کو لوکل مارکیٹ میں عام کیا جائے کسٹم حکام نے کہا کہ ویٹرنری ویکسین ڈیوٹی گیارہ فیصد ہے جس کو رواں مالی سال کے بجٹ میں ایک فیصد بڑھا کر بارہ فیصد کردیا گیا ہے اور ٹیکس مختلف کیٹیگری میں لگائے گی ہیں۔

وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ ٹیکس سلیب ختم نہیں کر سکتے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس سے بے ضابطگیاں پیدا ہوں گی اور مسائل جنم لیں گے کمیٹی نے ایگری مصنوعات پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز کو منظور کرلیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں بڑھائے جانے والے بیس روپے کو ختم کیا جائے یہ عوام پر ظلم ہے جبکہ دیگر ٹیکسز کو بھی دس فیصد تک لایا جائے۔

جس پر سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم پر پہلے لیوی دس روپے فی لیٹر لی جاتی تھی جو کہ 2009 سے چلی آرہی تھی اس کے قوانین کے اندر گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو بڑھایا جائے۔ انور بھنڈر نے کہا کہ بجٹ میں گنجائش پیدا ہونے کی بات نہیں کر سکتے بلکہ وہاں رفلیکٹ ہونا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بجٹ خسارہ نظر آتا ہے عوام کو ریلیف دینے کی بات تو ہوتی ہے لیکن ٹیکس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جاتی۔

جس کی وجہ سے بجٹ خسارہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا اس کو کم کرنے کیلئے آپ کو ٹیکس نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پنشن کے حوالے سے سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پنشن میں زیادہ اضافہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ پنشن کا بوجھ ہر آنے والے سال کے ساتھ حکومت پر بڑھ رہا ہے۔ پنشن میں دس فیصد اآضافے کا مطلب ہے کہ ہر پنشنر کی پنشن میں بارہ سے چودہ فیصد تک اضافہ ہوگا۔ جبکہ کمیٹی نے سگریٹ سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے سو ارب روپے صحت پر خرچ کرنے کی تجویز کو بھی منظور کرلیا۔