چھٹے مون سون اور ہیٹ ویو آ گاہی سیمینا ر 2018 کا انعقاد

بدھ مئی 23:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان محکمہ موسمیات نے ریجنل انٹیگریٹیڈ ملٹی-ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹم اور نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اشتراک سے چھٹا سالانہ مون سون اینڈ ہیٹ ویو آگاہی سیمینار 2018ء کراچی کے ایک ہوٹل میں منعقد کیا۔ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین، لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے سیمینار کی صدارت کی۔

تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، این ڈی ایم اے کے چیئرمین، عمر محمود حیات نے کہا کہ یہ سیمینار سندھ کے لوگوں کے لیے آگاہی مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مون سون 2017 سے حاصل ہونے والے تجربات اور سبق کا اکھٹا کرنے کے ساتھ کانفرنس نے مون سون اور موسم گرما 2018کے لیے تیاری کی غرض سے بہترین مواد فراہم کیا ہے۔

(جاری ہے)

خراب حالات سے نمٹنے کے لیے ہماری ٹیمیں اب زیادہ بہتر طور پرتیار ہیں۔

اہم معلومات پر مبنی اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد عوام کو موسم گرما کے دوران کراچی کے درجہ حرارت میں متوقع اضافہ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان موسمی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا تھا جو مون سون کے دوران واقع ہو سکتی ہیں۔سیمینار میں ہونے والی گفتگو میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ،،ڈاکٹر غلام رسول، صوبائی ڈزاسٹر اتھارٹی کے افسران،آر آئی ایم ایس کی جانب سے روبی روز ،فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے چیف میٹریولوجسٹ ،محمدریاض اور جامعہ کراچی کے ڈاکٹر جمیل حسن کاظمی نے خطاب کیا۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ، ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ یہ ورکشاپ لوگوں میں اس بات کی آگاہی میں اضافہ کے لیے تھی کہ خراب موسمی حالات میں کس طرح محفوظ رہیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنی زندگی بہتر بنانے کی غرض سے ماحولی حالات کو بہتری کے لیے کون سے اہم اقدامات کریں۔ رواں سال جنوبی ایشیا میں مون سون معمول کہ مطابق رہے گا،یہ پیش گوئی بھی کی جارہی کہ پاکستان میں پنجاب،، آزادجموں کشمیر اور خیبرپختونخو کے علاقوں میں اوسط سے زائد بارشوں کا امکان ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں قدر کم بارشیںہوں گی۔

کراچی میں تیز بارشوں کہ نتیجے میں صیلابی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ ممکن طور پر مئی اور جون کے مہینوں میں ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے این ڈی ایم اے، کے آپریشنز ممبر، بریگیڈیر مختار احمد نے بتایا کہ، پاکستان کو گزشتہ سالوںمیں قدرتی آفات کی وجہ سے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہی----، جس میں 2010 اور 2011 کے تباہ کن سیلاب شامل ہیں۔

اس لیے ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس قوم کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔ این ڈی ایم اے عوام کی بہتری کے لیے چاروں صوبوں میں ہنگامی کیمپوں میں 33 فیصد اضافی امداد فراہم کرے گی۔۔کے الیکٹرک کے چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسر، فخر احمد نے سیمینار میں آنے والے موسم گرما اور مون سون کے لیے کے الیکٹرک کے خصوصی اقدامات اور تیاریوں کو بھی اجاگر کیا ۔

انہوںنے کہا، - کراچی کی واحد پاور یوٹیلٹی ہونے کی حیثیت سے ہمیں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس ہے ، لہٰذاہم نے صنعتی اور گھریلو شعبوں میں بہتر کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے موسم گرما اور مون سون سیزن کے دوران بجلی کی مسلسل اور قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے ہیں۔

سیمینار کے دوران بعض سیشن گرمی سے تحفظ کے حوالے سے بہت معلوماتی تھے۔ مقررین نے پیک آورز میں بجلی کی بھاری مشینری اور آلات کا استعمال کم سے کم کرنے، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دینے کے ساتھ آؤٹ ڈورسرگرمیاں انجام دینے والے افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی اقدامات کریں اور جس میں پانی کی کمی سے بچیں۔ سیمینار میں ماحولیات کے ماہرین، اسٹیک ہولڈرز ،متعدد غیر سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے محققین، ہیلتھ کیئر اداروں ، تعلیمی اداروں اورمیڈیاسے تعلق رکھنے والے افرادسمیت200 سے زائدمتعلقہ افرادنے استفادہ کیا۔سیمینارکے اختتام پرڈاکٹر غلام رسول نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔