شہر میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہاہے ،حافظ نعیم الرحمن

صورتحال بہتر نہ ہوئی تو بڑے احتجاج پر مجبور ہوں گے ،ْ عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد جاری رکھیں گے

بدھ مئی 23:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ شدید گرمی کے باوجود شہر میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے ، صوبائی حکومت، بلدیہ عظمیٰ اور واٹر بورڈ کی نااہلی و ناقص کارکردگی اور ٹینکر مافیا کی پشت پناہی اور سرپرستی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ، شہر میں پانی کی فراہمی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تو اس مسئلے کے حل کے لیے کسی بڑے احتجاج پر مجبور ہوں گے ، مسائل کے حل تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کا پانی کراچی کو نہیں دیا جارہااور جو دیا جارہاہے وہ بھی شہریوں تک نہیں پہنچ پارہا اور حکومت ، واٹر بورڈ اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت کے باعث شہری پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کیے جارہے ہیں ، حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ شہرمیں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اگر پانی کو منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کے ساتھ فراہم کیا جاتا تو ایک طے شدہ ناغے کے بعد کراچی کے ہر حصے اور علاقے میں پانی پہنچ سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہونے دیا جارہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کی لائنوں کے اندر تو پانی نہیں ہوتا لیکن ٹینکر کے ذریعے انتہائی مہنگے داموں شہریوں کو پانی مل جاتا ہے جو مضر صحت بھی ہوتا ہے اور اس کی قیمتوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ، کوئی روکنے ٹوکنے والا اور پوچھنے والا نہیں ، شہریوں کو واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران، عملے اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، واٹر بورڈ کے اندر ماضی میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور پورا نظام درھم برھم کر کے رکھ دیا گیا ہے اور یہ صورتحال ابھی تک برقرار ہے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت اور بحران کی ذمہ داری ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔گزشتہ 18سالوں سے کراچی میں پانی کی فراہمی کا کوئی نیا منصوبہ نہیں بنایا گیا ، نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کی سٹی حکومت کے دور میں K3منصوبہ کر کے K4منصوبہ شروع کیا گیا لیکن ان کے بعد آنے والی سٹی حکومت اور صوبائی حکومت کی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ نے اس منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کر کے اسے تعطل کا شکار کردیا اور بد قسمتی سے یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا اگر یہ منصوبہ اپنے وقت پر مکمل ہوجاتا تو کراچی کے عوام آج پانی کی قلت اور بحران کا شکار نہ ہوتے ۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور نعرے بازی اور جھوٹے وعدے کرنے کے بجائے K4منصوبہ بروقت مکمل کرنے کے لیے فنڈز فراہم کریں ۔