ادویات کو سٹور کرنے کا جدید نظام دیکھ کر خوشی ہوئی ہے، ڈیجیٹل نظام کا قیام پنجاب حکومت کا انتہائی مستحسن اقدام ہے ‘شہبازشریف

شعبہ صحت کی بہتری کیلئے ہر طرح کے وسائل بروئے کا ر لائے جا رہے ہیں،اس ضمن میں حکومتی اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں، پی ٹی آئی نے کے پی کے میں بربادی کی داستانیں چھوڑ کر لاہو رمیں جلسہ کیا اور قوم کو نئے خواب دکھانے کی کوشش کی ‘قوم خان صاحب کے جھوٹ او ردھوکے میں نہیں آئے گی ،ان کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ہے، سیاسی بنیادوں پر اربوںروپے کے قرضے معاف کرانے والوں کا بھی بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے ، اسی سے پاکستان آگے بڑھے گا، کرپشن کے میگا کیسزمیں قوم اور ملک کو لوٹا گیا،کرپشن کے میگا سیکنڈلز کو بلا امتیاز سامنے لایا جانا چاہیے تا کہ قوم دعائیں دے،آصف زرداری کے اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز نیب میں پڑے ہیں، اس کے علاوہ 6ارب روپے سوئس بنکوں میں ہیں،نیب او رعدالت عظمی سے میری یہی درخواست ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور یہ لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر قوم کی دعائیں لے‘وزیراعلیٰ پنجاب

بدھ مئی 23:45

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے گرو مانگٹ روڈ گلبرگ میں جدیدمیڈیسن سپلائی ویئر ہاؤس کا افتتاح کیااوراس جدیدمیڈیسن سپلائی ویئر ہاؤس کا دورہ کیا ۔وزیراعلیٰ کو میڈیسن سپلائی ویئر ہاؤس کے بارے میں بریفنگ دی گئی اوربتایاگیا کہ یہ ویئر ہاؤس 20کروڑ روپے کی لاگت سے بنایاگیاہے ۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کو سٹورکرنے کا جدید نظام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور اس مقصد کے لئے ڈیجیٹل نظام کا قیام پنجاب حکومت کا انتہائی مستحسن اقدام ہے۔

انہوںنے کہاکہ اس ویئر ہاؤس میں ادویات کو محفوظ کرنے اوریہاں سے ادویات کی ترسیل کیلئے شاندار نظام بنایاگیا ہے اوریہاں ادویات رکھنے کیلئے بین الاقوامی سٹینڈرڈ کو مدنظر رکھاگیا ہے ۔

(جاری ہے)

ادویات کی محفوظ انداز میں بروقت سپلائی کے حوالے سے یہ نظام اہم کردارادا کررہاہے۔وزیراعلیٰ نے ادویات کیلئے بہترین سپلائی نظام وضع کرنے پر متعلقہ حکام کو شاباش دی۔

صوبائی وزراء صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر،چیف سیکرٹری ،سیکرٹریز صحت اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع موجود تھے - وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے برڈ ووڈ روڈ پر جدید بی ایس ایل تھری لیب کا افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے جدید ترین لیب کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اورجدید ترین لیب کے قیام پر مسرت کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کی لیب کا قیام موجودہ وقت کا تقاضا ہے ۔

اس لیب میں ایڈز،،ہیپاٹائٹس اوردیگر خطرناک امراض کے ٹیسٹ ہوسکیںگے اورلیب میں جدید سہولتیں دیکھ پر دلی مسرت ہوئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ بی ایس ایل تھری لیب کاقیام پنجاب حکومت کاایک اورسنگ میل ہے اوردکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے یہ اہم اقدام ہے ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کا تفصیلی دورہ کیا -وزیراعلی محکمے کے ہر شعبہ میں گئے اور وہاں موجود افسروں اور عملے سے ہاتھ ملایا اور ان کی کارکردگی کو سراہا-وزیراعلی نے محکمہ ہیلتھ کے مختلف یونٹس کا بھی دورہ کیا -وزیراعلی نے محکمہ پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کیئر کے مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس سنٹر اور صوبائی ٹی بی ریفرنس بی ایس ایل تھری لیب کا بھی افتتاح کیا-وزیراعلی نے دونوں منصوبوں کا دورہ کیا اور یہاں رکھی گئی جدید مشینری کا معائنہ کیا-مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس سنٹر کے ذریعے تحصیل و ضلعی ہسپتالوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے منسلک کیا گیاہے -اب تک 40ہسپتالوں کو مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس سنٹر سے منسلک کر دیا گیاہے -جدید کیمروں کے ذریعے تحصیل و ضلعی ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے -وزیراعلی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شعبہ صحت کی بہتری کے لئے ہر طرح کے وسائل بروئے کا ر لا ئے جا رہے ہیں-شعبہ صحت کی بہتری کے لئے حکومتی اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں اوراس طرح کی جدید لیبز کا قیام دکھی انسانیت کے لئے ہماری حقیر کاوشیں ہیں- وزیراعلی ڈے کیئر سنٹر بھی گئے -وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کے توسیعی منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی- وزیراعلی نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کا بھی دورہ کیا اور شاندار کام پر متعلقہ حکام کو شاباش دی -وزیراعلی محمد شہبازشریف نے بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت ادویات کی سٹوریج ،ترسیل اور تقسیم کا جدید نظام لائی ہے اور یہ نظام مکمل طورپر آپریشنل ہوچکاہے -میں نے آج اس نظام کا مشاہدہ کیا ہے اور یہ جدید نظام دیکھ کر دل با غ باغ ہوگیاہی-انہوںنے کہاکہ گرومانگٹ میں ادویات کی سٹوریج کے لئے پاکستان کا بہترین منصوبہ مکمل کیا گیاہے اور اس منصوبے کو ٹی سی ایس کمپنی چلا رہی ہے -اسی طرح کے میڈیکل ویئر ہائوس کا ملتان میں بھی افتتاح کیا تھا ،ان میڈیکل وئیر ہائوسز میں ادویات کو مطلوبہ ٹمپریچر کے مطابق سٹور کیا جا تاہے -بار کوڈ لگایا جاتاہے جس سے اب ان ادویات کی چوری اور خرد برد کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں-برڈ ووڈ میں بھی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے یہاں بیکٹیریا او روائرس کی شاندار ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز بنائی گئی ہیں-عملہ تربیت یافتہ ہے اوراسے برطانیہ اورترکی سے تربیت دلائی گئی ہی-ماسٹر ٹرینز بھی تیار کئے گئے ہیں ،انہوںنے کہاکہ ڈی ٹی ایل لیبز لاہور کے علاوہ ملتان،، بہاولپور ، راولپنڈی ، فیصل آباد میں بھی بنائی گئی ہیں،ان کی انٹرنیشنل سرٹیفکیشن بھی جلد ہونے والی ہی-انہوںنے کہاکہ ہم نے ادویات کی ٹیسٹنگ کے غار کے زمانے کے نظام کو دفن کر دیاہی-یہ ڈریگ ٹیسٹنگ لیبز عالمی معیار کی ہیںاور دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے مریضوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے -اب ادویات کی ٹیسٹنگ کے غلط نتائج نہیں ملیں گی-ٹیمپرنگ کا کوئی خدشہ نہیں ،جعلی کمپنیوں کی جانب سے جعلی ادویات کی تیاری کا خاتمہ ہوگا-جعلی ادویات کے ذریعے انسانوں کی قتل گاہیں بند ہوں گی-محکمہ صحت کے تحت ادویات کی ٹیسٹنگ کا یہ آزاد نظام بنایا گیاہی-انہوںنے کہاکہ پرائمری ہیلتھ کا نظام دیکھ کر دلی مسرت ہوئی ہی-یہاں تربیت یافتہ اور دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار عملہ موجود ہی-میں ادویات کی سٹوریج ، ترسیل ، تقسیم اور ٹیسٹنگ کے جدید نظام کے لاگو ہونے پر پنجاب کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں او راس نظام کو بنانے اور اسے نافذ کرنے پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر ، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری صحت علی جان خان اور پوری متعلقہ ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی شب وروز کی محنت سے یہ جدید نظام تیار ہوا ہی-مانیٹرنگ کا موثر نظام لانے پر ڈاکٹر عمر سیف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن لوگو ںنے اس نظام کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالا ہے، انہوںنے دنیا میں جنت کمائی ہے -اس نظام کی تیاری او رنفاذ میں جہاں اربوں روپے کے وسائل صرف ہوئے ہیں وہاں اس نظام کو بنانے والو ںنے اپنا خون پسینہ بھی بہایا ہے او را ن کی محنت رنگ لائی ہی- مانیٹرنگ کے اس نظام کے تحت پنجاب بھر کے ضلعی ہسپتالوں کی کارکردگی کو مانیٹرنگ کیا جاتا ہی-انہوںنے کہاکہ تپ دق کی سٹیٹ آف دی آرٹ لیبر قائم کی گئی ہے جبکہ جگر کے امراض کے علاج کے لئے ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس کا شاندار نظام بنایا گیاہی-دوسرے صوبوں میں بھی ہمارے بہن بھائی بستے ہیں اور اگر انہیں اس ضمن میں ہمارا تعاون او رمدد رکار ہے تو ہم حاضر ہیں-انہوں نے کہاکہ مردہ خانے کا بھی جدید نظام بنایا گیاہے اگر مجرمانہ ایکٹ کی تحقیق کے لئے فرانزک لیب میں نمونے حاصل کرنے کی ضرورت پڑے تو اس حوالے سے یہ نظام معاون ثابت ہوگا-انہوںنے کہاکہ ہم نے جو جدید لیبز بنائی ہیں ان کا موازانہ کسی حد تک ترکی اور ایران کی لیبز سے کیا جا سکتا ہے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، سفر لمبا ہے لیکن شاندار مستقبل ہمارے سامنے ہی-ہمارے سیاسی مخالفین نے اپنے صوبے کے عوا م کو صرف دکھ دئیے ہیں اور ان کے دلوں پر مایوسی اور بد ترین کارکردگی کے نشتر برسائے ہیں-وزیراعلی نے میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی نے کے پی کے میں بربادی کی داستانیں چھوڑ کر لاہو رمیں جلسہ کیا اور قوم کو نئے خواب دکھانے کی کوشش کی -قوم عمران خان صاحب کے جھوٹ او ردھوکے میں نہیں آئے گی ،ان کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ہی-میرے مخالفین سے درخواست ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں-یہاں آئیں ہم آپ کو عوام کی خدمت کے گربتائیں گے -وزیراعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پی ٹی آئی 2011ء اور 2018 کے جلسوں کا خود موازنہ کرے تو حقیقت ان پر واضح ہوجائے گی-ایک سوال کے جواب میں کہاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں سی ٹی سکین مشینیں نصب کی جا رہی ہیں جوکمپنی یہ مشینیں لگا رہی ہے وہی اسے چلانے کی ذمہ دارہی-یہ سی ٹی سکین مشینیں 24گھنٹے عوام کو سی ٹی سکین کی سہولتیں فراہم کررہی ہیں -ہم نے سی ٹی سکین کا جدید نظام لاکر کرپٹ مافیا کا گٹھ جوڑ توڑ دیاہی-اب کوئی جان بوجھ کر مشین خراب کر کے مریض کو باہر سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور نہیں کر سکے گا-ایک او رسوال کے جواب میں کہاکہ پورے پاکستان میں نیب کا سورج آب و تاب کے ساتھ چمک رہاہے تو اچھی بات ہی-ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہاکہ 2018ء میں عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے مینڈیٹ کا ایک اور موقع مل رہاہے -ایسی قیادت جو ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نکالنے ، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کی صلاحیت رکھتی ہے ،عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں آگے لاسکتے ہیں-انہوںنے کہاکہ ہم نے عوام کی بے لوث خدمت کی ہے ،،پنجاب میں وزیراعلی خود روزگار سکیم کے تحت 46ارب روپے کے بلاسود قرضے 20لاکھ گھرانوں کو دئیے گئے ہیں اور ان کی وصولی بھی تقریبا 100فیصد ہے -ایک طرف یہ غریب لوگ ہیں جنہوںنے امانت او ردیانتداری کے اعلی معیار قائم کرتے ہوئے قرضے کی ایک ایک پائی واپس کی ہے تو دوسری طرف اشرافیہ،امراء اور تمن دارہیں جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر اربوںروپے کے قرضے معاف کرائے ہیں-ایسے عناصر کا احتساب او ران سے معاف کرائے گئے قرضوں کی وصولی سے ہی پاکستان قائدؒ و اقبالؒ کا پاکستان بن سکتا ہی-بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب سے ہی پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا--جناح ہسپتال میں ایم آر آئی مشین کے خراب ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہاکہ اگر متعلقہ وزیر یہاں ہوتے تو ان سے ضرور پوچھتے تاہم اس کا نوٹس لے لیا ،انہوںنے کہاکہ ہم نے لاہور ، سرگودھا او رملتان میں 3جامدورکشاپس قائم کر دی ہیں جبکہ 9موبائل ورکشاپس بھی منگوائی ہیں-اب اگر کسی ہسپتال میں طبی آلات خراب ہوئے گے تو ان لیبز کے ذریعے فوری طو رپر درست کرائے جائیں گے -ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ چودھری نثار میرے دوست ہیں اور وہ پارٹی کے سینئر رہنما ہیں تاہم میری آج خوشی کی وجہ جدید نظام کو دیکھ کر ہی--بجلی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب میں لگنے والے گیس کے توانائی کے چار منصوبوں میں غریب قوم کے 150ارب روپے بچائے ہیں-دوسری جانب نندی پور وہ بجلی کامنصوبہ ہے جس کی ٹینڈرنگ نہیں ہوئی اوراس میں بے پناہ کرپشن کی گئی جو بڑا جرم ہی- نیب کو اس کا نوٹس لینا چا ہیے ،میری عدالت عظمی سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اس کا نوٹس لے کہ اس منصوبے میں کرپشن کرنے والے ابھی آزادی کے ساتھ پھر رہے ہیں-یہ قوم سے بڑی نا نصافی ہے - کچی کینال کا منصوبہ مشرف نے بغیر ٹینڈرنگ اور منصوبہ بندی کے شروع کیااس منصوبے کی لاگت 20ا رب روپے سے بڑھ کر 90ارب روپے ہو چکی ہی-یہ کرپشن کے میگا کیس ہیں ، جنہوں نے اس قوم اور ملک کو دیمک کی طرح چاٹا ہے --کرپشن کے میگا سیکنڈلز کو بلا امتیاز سامنے لایا جانا چاہیے تا کہ قوم دعائیں دی- ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہاکہ ڈاکٹروں کی اکثریت دکھی انسانیت کے جذبہ سے سرشار ہے تاہم مٹھی بھر عناصر دکھی انسانیت کی خدمت میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ،ان رکاوٹو ں کو دور کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے -اگر انتظامیہ نے اپنا فرض نہ نبھایا تو آنے والے وقت میں قوم یہی کہے گی کہ ہم نے ہسپتالوں کا جو ماڈل اپنایاہے اسے پورے پنجاب میں لاگو کیا جائی-ہم نے نئے بنائے گئے ہسپتال انڈس ٹرسٹ کے حوالے کئے ہیں- ان ہسپتالو ںمیں نا تو ہڑتال ہوتی ہے او رنہ ہی یہ بند ہوتے ہیں--آصف زرداری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ ان کے اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز نیب میں پڑے ہیں اس کے علاوہ 6ارب روپے سوئس بنکوں میں پڑے ہیں - اگر قوم کی یہ دولت نہ لوٹی جاتی تو اس سے کئی لیبز اور ہسپتال بن سکتے تھی-نیب او رعدالت عظمی سے میری یہی درخواست ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور یہ لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر قوم کی دعائیں لیں-ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہاکہ نیب میرے انڈر نہیں ہے اگر نیب میرے انڈر ہوتی تو میں نیب کے انڈر نہ ہوتا-