کوئٹہ، ایپکا کے زیر اہتمام بلوچستان کے تمام اضلاع میں لاکھوں ممبران و عہدیدارکا وفاقی بجٹ کیخلاف احتجاجی مظاہرے و ریلیاں

بجٹ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، داد محمد بلوچ بلوچستان کے ملازمین کا احتجاج حکمرانوں کے غلط پالیسیوں استحصالانہ نظام کے باعث ہورہا ہے، صوبائی صدر ایپکا بلوچستان

بدھ مئی 23:47

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی و صوبائی کال پر ایپکا بلوچستان کے تمام اضلاع میں ایپکا کے لاکھوں ممبران و عہدیداران نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے و ریلیاں نکالی۔ بلوچستان بھر کے اضلاع جس میں ضلع مستونگ، قلات ، خضدار، لسبیلہ ، کیچ ، پنجگور، آواران ، واشک ، خاران، چاغی، نوشکی ، پشین ، زیارت، قلعہ عبداللہ، لورالائی، ژوب ، شیرانی، سبی ، بولان، نصیرآباد، جعفر آباد، جھل مگسی ، ڈیرہ بگٹی ، کوہلو ، بارکھان نے احتجاجی مظاہرے کئے اور پریس کلبز کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

اسی طر ح ضلع کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کی قیادت ایپکا بلوچستان کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ اور مظاہرے کی نگرانی ضلعی صدر ایپکا ضلع کوئٹہ رحمت اللہ زہری نے کی۔

(جاری ہے)

ایپکا کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے اور وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوں اور غریب ملازمین کی تنخواہ ان اخراجات کو بھی پوری نہ کرسکتی ہو، وہاں تنخواہوں میں قلیل اضافہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو کمرے کا مکان بھی 10000دس ہزار سے کم پہ نہیں ملتی، وہاں ہائوس رینٹ میں صرف چند سو روپے کا اضافہ اور میڈیکل الائونس میں صرف 500روپے کا اضافہ ، انتہائی کم اور ناگزیر ہیں۔ اُنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ ، جس کی یقین دہانی وفاقی سیکریٹری خزانہ نے بھی کی تھی، پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے آج پورے پاکستان میں ایپکا کے ممبران و عہدیداران سراپا احتجاج ہیں اور وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔

اور ساتھ ہی اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بھی ہمارے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا ۔ گزشتہ دو مہینوں سے ایپکا کے ورکر اپنے جائز مطالبات کے لئے سٹرکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ بارہا مطالبات کئے حکمرانوں کو لکھ کر دیا ، لیکن حوصلہ افزاء پذیرائی نہیں ملی۔ بہ حالتِ مجبوری اپنے کارکنوں کے عزت نفس کی بحالی کیلئے میدان میں نکلے ہیں ۔

ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے احتجاج کا رُخ حکمرانوں کے ایوانوں کی جانب موڑ دیں اور حکمرانوں کے گھیرائو کے لئے ایپکا بلوچستان کے صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا کر بہت جلد فیصلہ کرینگے۔ اور ہم سے تعاون نہ کرنے والے عوامی نمائندے آنے والے انتخابات میں ملازمین سے تعاون کی کوئی توقع نہ رکھیں۔ اب اپنے جائز مطالبات کے حل ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ایپکا کے کارکنوں سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے سبزازار میںاحتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مظاہرے میںشریک ایپکا کے کارکنوں نے مختلف قسم کے بینرزاور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے۔ جن پر مختلف قسم کے مطالباتی نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایپکا ضلع کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری، جنرل سیکریٹری محمد عارف مینگل نے کہا کہ کہ ایپکاکے ممبران جب بھی سڑکوں پہ آئے ہیں ۔

توحکومت کو اپنے مطالبات منوانے پہ مجبور کیا ہے۔ ایپکا نے جو بھی ڈیمانڈپیش کیا ہے وہ جائز اور حقائق پر مبنی ہیں ایپکا کبھی بھی وہ ڈیمانڈ پیش نہیں کریگی جسکا دفاع مذاکرات کے ذریعے نہ کرسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ملازمین کا سرکاری دفاتر میں جاری احتجاج حکمرانوں کے غلط پالیسیوں اور صدیوں سے جاری استحصالانہ نظام کے باعث ہورہا ہے۔

کچھ ڈیپارٹمنٹس کو مراعات سے نواز کر بلوچستان کی اکثریتی محکمہ جات کے ملازمین کو مراعات سے محروم رکھ کر احساسِ محرومی کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے۔ ریاست کے لئے سب برابر ہیں تمام ملازمین کو یکساں مراعات دی جائیں۔ ایپکا کے ورکرز شدید مہنگائی اور قلیل تنخواہوں کی باوجود سرکاری مشینری کو چلارہے ہیں۔ بہ حالتِ مجبوری حکمرانوں کے وعدہ ایفاء نہ ہونے کے باعث احتجاج کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ٹیکنکل و نان ٹیکنکل سٹاف جو اپ گریڈیشن سے رہ گئے ہیں اُنکو اپ گریڈ کیا جائے، ہائوس ریکوزیشن اور یوٹیلیٹی الائونس سمیت تمام جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔بصورتِ دیگر وہ دن دور نہیں کہ ایپکا ایک بار پھر ایک نئی تاریخ رقم کرے۔