ترقی اورکامیابیوں سے بھرپورسی پیک کا’’ فٹ بال‘‘ اب پاکستان کے ہاتھوںمیں ہے،حسن داوربٹ

بدھ مئی 23:49

ملتان۔2 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ترقی اورکامیابی سے بھرپورسی پیک کی گیند نہیں بلکہ فٹبال اب پاکستان کے ہاتھوںمیںہے جس سے پوراخطہ بھی مستفید ہوسکتاہے، بہائوالدین زکریونیورسٹی ملتان میں پراجیکٹ ڈائریکٹرسی پیک (پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ ڈویژن حکومت پاکستان)) کے نمائندے حسن دائود بٹ نے ’’چائینہ پاکستان اکنامک کاریڈور کے سماجی واقتصادی اثرات ‘‘سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ اس پروجیکٹ کے تحت انرجی کے منصوبوں پرتقریباًً34746ملین ڈالرٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچرکے منصوبوں میں سے سڑکوں پر4179ملین ڈالر،، ریلوے پر 8212 ملین ڈالر،،گوادرپورٹ پر7806 ملین ڈالر اور تیز ترین اور شفاف ترین ڈیٹا کیلئے آپٹک فائبرکے منصوبوں پرتقریباًً48 ملین ڈالرخرچ کئے جا رہے ہیں ، انہوںنے کہاکہ سی پیک میں شارٹ ٹرم ، میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبے شامل ہیں جن کی تکمیل پر پاکستان 2025ء تک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی 25 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائیگا، داور بٹ نے کہاکہ ان منصوبوں کیلئے چائنہ پاکستان میں تاریخ کی بہت بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ کچھ منصوبوں کیلئے اگر قرض بھی لیا گیا ہے تووہ بھی نہ صرف طویل ترین مدت کیلئے بلکہ بہت ہی کم مارک اپ پراور پھر اسکے استعمال کیلئے کوئی شرائط بھی نہیں رکھی گئیں ، لائیوسٹاک ، پولٹری بریڈنگ ،کراپ سیڈری پروڈکشن ، بریڈنگ اینڈ پروڈکشن ٹیکنالوجی ، ایگریکلچر پروڈکٹس پروسیسنگ اورمیکنائزیشن ڈیمانسٹریشن جیسے پروگرام بھی سی پیک کاحصہ ہیں جبکہ پاکستان سے ہرسال ہزاروں طلباء وطالبات جدیدترین تعلیم وتربیت کیلئے بھی چین جارہے ہیں ، اس کے علاوہ پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں کے چائینہ کی ٹاپ رینکنگ یونیورسٹیوں کے ساتھ ایم اویوکئے جارہے ہیں ، 2030 تک تھر پاکستان کے انرجی سیکٹر کا دارالحکومت ہو گا ، تھر کے کوئلے سے پاکستان آئندہ سو برس تک اپنی انرجی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک میں خواتین کو بھرپور موقع فراہم کیا جا رہا ہے ، تھر میں پانچ خواتین انجینئرز کا م کر رہی ہیں جن میں ایک اقلیتی خاتون بھی شامل ہے، گوادر میں تین سو بیڈ ز پر مشتمل عالمی معیا ر کا ہسپتال اور ووکیشنل ٹرینگ سنٹر قائم کیا جا رہا ہے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاکستان کیلئے لائف لائن ہے، کسی بھی صورت میں پاکستان کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، بہت جلد پاکستان مضبوط ترین معاشی ملک بن کر ابھر ے گا، پاک چائنہ تعلقات مثالی ہیں ، ایسے سیمینار تسلسل کے ساتھ ہونے چاہیں تاکہ لوگوں کو سی پیک کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔