پیپلز پارٹی کی قیادت نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں، وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال

بدھ مئی 23:50

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں اسکا ایک ثبوت امن و امان کا قیام ہے جس کی خود صنعت کار و تاجر برادری اعتراف کررہی ہے ، آئی جی سندھ کو تبدیل نہیں کیا جارہا ہے ، نئے پولیس ایکٹ کے لیے تجاویز طلب کی ہیں ، راؤ انوار کی زندگی کو خطرہ تھا اس لیے گھر میں نظر بند کیا ہے،صائمہ جروار کے کیس کو خود مانیٹر کررہا ہوں سامارو کی غائب ہو نے والی لڑکی بھی مل گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے سائٹ ایسوسی ایشن حیدرآباد کی ایک تقریب کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہی انہوں نے کہاکہ سندھ میں امن و امان کی حالت سوالیہ نشان تھی ہم جب لاڑکانہ سے باہر نکلتے تھے تو بزرگ کہتے تھے کہ رات میں سفر نہ کیا کریں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے عوام سے امن و امان قائم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا ہے جس کا اعتراف صنعت کار اور تاجر برداری بھی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن وامان کی قیام میں فوج اور رینجرز کا بھی بڑا کردار ہے اور ساتھ ہی پولیس کی قربانیاں ہیں ان تینوں اداروں کی دن و رات کوشش سے امن قائم ہو گیا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے پی کے پولیس کا حوالہ بہت دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں ججز کی حفاظت پر ایف سی اہلکار معمور ہیں جبکہ سندھ میں ججز کی حفاظت کے لیے پولیس تعینات ہے یہ عدلیہ و ججوں کا سندھ پولیس پر اعتماد ہے انہوں نے کہاکہ میں یقین دلاتا ہوں کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل نہیں کیا جارہا ہے پولیس سے نئے ایکٹ کے حوالہ سے تجاویز طلب کی گئیں ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ سندھ پولیس کا کردار مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں پولیس نفری میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے پولیس میں 33فیصد اضافہ کے بعد اسکی نفری ایک لاکھ46ہزار تک پہنچ جائے گی انہوں نے کہاکہ پولیس کو نئی گاڑیاں بھی دے رہے ہیں حیدرآباد پولیس کو 22نئی گاڑیاں دی گئیں ہیں شہید پولیس اہلکار کا معاوضہ بھی ایک کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے سیہون کے میلہ کے حوالہ سے کہاکہ وہاں کوئی تھریٹ تو نہیں ہے لیکن حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کئے گئے ہیں اور میلہ میں 2500پولیس اہلکار تعینات ہو نگے ۔

اسی طرح انتخابات کے لئے سیکورٹی کا پلان بھی زیر غور ہے انہوں نے کہاکہ راؤ انوار کا کیس ہائی پروفائل ہے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اس لیے جیل کے بجائے انہیں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر وہاں پر نظر بند کیا گیا ہے لاڑکانہ کی صائمہ جروار کے کیس سے متعلق کہا کہ وہ اسے خود مانیٹر کررہے ہیں اور اعلیٰ قیادت بھی اس حوالہ سے معلومات کرتی رہتی ہے جبکہ سامارو کی لڑکی امیشا خاصخیلی برآمد ہو گئی ہے ۔