جلسہ صادق آباد دا مجمع صادق آباد دا، لیڈر عوم دا ایجنڈا پاکستان دا ،مریم نواز کا جلسے پر نعرہ

خواجہ آصف کی وفاداری کے باعث نا اہلی کے بعد پورا سیالکوٹ ان کے استقبال کے لئے امڈ آیا اب کی بار لوٹوں کی دال نہیں گلے گی، اگلے انتخابات میں وہ سبق ملے گا کہ آئندہ پارٹی چھوڑ جانے والے 10بار سوچیں گے نواز شریف کو اس لئے نکالا کہ اس کے پاس دبئی کا ویزہ تھا،لوگوں نے نواز شریف کو اپنی ضد بنا لیا ،صدق آباد میں جلسہ عام سے خطاب

بدھ مئی 23:53

صادق آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) مسلم لیگ (ں) کی رہنما مریم نواز نے نیا نعرہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلسہ صادق آباد دا مجمع صادق آباد دا، لیڈر عوم دا ایجنڈا پاکستان دا ،،خواجہ آصف کی وفاداری کے باعث نا اہلی کے بعد پورا سیالکوٹ ان کے استقبال کے لئے امڈ آیا۔ اب کی بار لوٹوں کی دال نہیں گلے گی۔ اگلے انتخابات میں وہ سبق ملے گا کہ آئندہ پارٹی چھوڑ جانے والے 10بار سوچیں گے ۔

نواز شریف کو اس لئے نکالا کہ اس کے پاس دبئی کا ویزہ تھا۔ لوگوں نے نواز شریف کو اپنی ضد بنا لیا صدق آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ صادق آباد کے عوام نے مجھے حیران کر دیا ہے۔ آج کا جلسہ یہ بتا رہا ہے کہ جلسہ صادق آباد دا مجمع صادق آباد دا لیڈر عوام دا۔ ایجنڈا پاکستان دا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پنجاب کا موٹ بتا رہ اہے کہ لوٹوں کی دال نہیں گلے گی۔

جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں انہیں سبق ملے گا اور آئندہ انتخابات میں ایسا سبق ملے گا کہ آئندہ کوئی بھی پارٹی چھوڑنے سے پہلی10بار سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا قصور یہ تھا کہ وہ ڈٹ گیا۔ نواز شریف کو اس لئے نکالا گیا کہ اس کے پاس دبئی کا ویزہ تھا ۔ عوام بتائیں کہ مشرف نے جب ہمارے خاندان کو ملک سے نکال دیا تو نواز شریف کو کہیں رہنے کے لئے ویزہ تو چاہیئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس نے منتخب حکومت کو توڑا اور پر ملک کے وزیراعظم کو ملک سے نکالا وہ آزاد ہے پوچھنا تو اسے چاہیئے تھا کہ ایک وزیراعظم کو ملک سے کیوں نکالا۔ مگر پوچھا ہمیں جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا اور ویزہ رکھنا نواز شریف کا جرم ب جاتا ہے۔ لاڈلا جرم کا اعتراف کرت اہے مگر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنتی اور اسے صادق اور امین قرار دے دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں، بیٹی اور خود نواز شریف نے اپنے آپپ کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ نواز شریف 70پیشیاں بھگت چکے ہیں۔ نواز شریف کو لوگوں نے ضد بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کی اآپ کو نواز شریف کی بیٹے سے نتخواہ نہلینے پر نا اہلی قبول ہے۔ نواز شریف جھکا نہیں اس نے کہا کہ اللہ کے آگے جھکوں گا اور عوام کی بات مانوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جس سے ن اانصافی ہوئی اسی سے سوال پوچھے جا رہے ہیں۔

نیازی کی آف شور کمپنی اس کے آگے رکاوٹ نہیں بنتی۔ نواز شریف کی آف شور کمپنی پر جے آئی ٹی بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے وفا نبھائی ہے ۔ خواجہ آصف کی وفاداری کی وجہ سے جب نا اہلی کے بعد وہ سیالکوٹ پہنچے تو پورا شہر ان کے استقبال کے لئے امڈ آیا۔ خواجہ آصف نواز شریف کا نہیں اس ملک کا وزیر خارجہ تھا۔ اسے نواز شریف سے وفاداری پر نا اہل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ساری سازشوں کا جواب ووٹ کی پرچی سے دینا ہے۔ انتخابات میں مہروں کو عبرت کا نشان بنا دینا۔ آج پورے پاکستان کے عوام نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا زرداری اور عمران خان کا گٹھ جوڑ نواز شریف نے کرایا کیا بلوچستان کی منتخب حکومت نواز شریف نے ختم کی۔ یہ سب کچھ کس نے کیا انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اربوں کے منصوبے بنائے ایک روپے کی کرپشن نہیں کی۔۔