مختلف سیاسی ، مذہبی شخصیات ، حاضر سروس اور رٹائرڈ افسران سے اضافی سکیورٹی واپس لینے اور دیگر امورکا جائزہ لینے کیلئے سکھر ڈویژنل تھریٹ اسسمینٹ کمیٹی تشکیل

بدھ مئی 23:54

سکھر۔ 2مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) مختلف سیاسی ، مذہبی شخصیات ، حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران سے اضافی سکیورٹی واپس لینے اور دیگر امورکا جائیزہ لینے کیلئے سکھر ڈویژنل تھریٹ اسسمینٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے چیئر مین کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ ہوں گے۔ کمشنر سکھر نے ہدایت کی ہے کہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن کے سربراہ ڈی سیز ہونگے ان کمیٹیوں میں ایس ایس پیز ، ونگ کمانڈر رینجرز ، جی او اسپیشنل برانچ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران ممبر ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ تھریٹ کمیٹی کی منظوری کے بغیر کسی کو بھی سکیورٹی گارڈ نہیں ملے گا اورکس کو کتنی سکیورٹی کی ضرورت ہے اس کا تعین بھی مذکورہ کمیٹی ہی کریگی۔

(جاری ہے)

جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی پہلا اجلاس کمیٹی چیئرمین/کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ڈویزنل تھریٹ کمیٹی کا چیئرمین کمشنر سکھر ڈویژن ہوگا جبکہ ممبران میں ڈی آئی جی سکھر پولیس،، کمانڈنٹ رینجرز،، تمام ڈی سیز، ایس ایس پیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شامل ہیں۔

اجلاس میں کمانڈنٹ رینجرز سکھر کرنل امتیاز ، ڈی آئی جی سکھر پولیس خادم حسین رند، سکھر، خیرپور اور گھوٹکی کے ڈی سیز اور ایس ایس پیز سمیت مختلف متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ حکام اور محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت مختلف سیاسی شخصیات او ر مذہبی رہنمائوں سمیت حاضر سروس یا رٹائرڈ افسران سے اضافی سکیورٹی واپس لی جائیگی اور کسی کو بھی سکیورٹی گارڈز اور اسکواڈ فراہم کرنے کا طعین تھریٹ کمیٹیاں ہی کرینگی ۔

کمشنر سکھر ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے سکھر ، خیرپور اور گھوٹکی کے ایس ایس پی کو ہدایت کی ہے کہ شخصیات یا افسران کو دیے گیے سکیورٹی گارڈز کی مکمل تفصیلات اور فہرست فراہم کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف لوگوں کو ملنے والی سکیورٹی کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور تھریٹس کی بنیاد پر سکیورٹی گارڈز حاصل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ تھریٹس کمیٹیوں سے رابطے کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی گارڈز کی تعداد اور پوزیشن واضح کرنے کے لیے محکمہ داخلہ کو لکھا جائیگا تا کہ ضرورت پڑنے پرلوگوں کو سکیورٹی فراہم کی جاسکے، تاہم کسی کو بھی اضافی سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے ۔

متعلقہ عنوان :