کوئٹہ ،عرصہ دراز سے چلتن کیمپس میں تدریس کا عمل شروع نہ کرنا اور 82سے زائد کنٹریکٹ ملازمین جو عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں

بلوچستان نیشنل پارٹی کا بیوٹمز یونیورسٹی چلتن کیمپس میں ڈیلی ویجز 82 سے زائد ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار

بدھ مئی 23:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں عرصہ دراز سے بیوٹمز یونیورسٹی چلتن کیمپس میں کلاسز کا اجراء نہ کرنے اور یونیورسٹی میں ڈیلی ویجز میں 82 سے زائد ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس مکمل تیار ہونے کے باوجود کلاسز کا اجراء نہیں کیا گیا اس سے قبل بھی زرعی یونیورسٹی کیلئے جو زمین مختص کی گئی تھی اس معاملہ کو بھی سرد خانے کی نظر کر دیا گیا جو علم دشمنی کے مترادف عمل ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ عرصہ دراز سے چلتن کیمپس میں تدریس کا عمل شروع نہ کرنا اور 82سے زائد کنٹریکٹ ملازمین جو عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں انہیں مستقبل نہ کرنا یقینا قابل افسوس ہے بیان میں کہا گیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد ملک بھر میں جامعات کے معاملات کو وزراء اعلیٰ چلاتے ہیں لیکن بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی بجائے تمام جامعات کے معاملات گورنر چلا رہے ہیں اور سیاسی مداخلت جاری ہے نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر سابقہ صوبائی حکومت اور ارباب اختیار نہ تعلیم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تعلیمی انقلاب کے دعویداروں نے تعلیم کو فروغ دینے کے بجائے مزید پسماندگی کی جانب دھکیلنے سے دریغ نہیں کیا بی این پی کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کو فروغ دیا اور جامعات میں میرٹ پر مبنی پالیسی لاگو کی جائے حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام جامعات کا کنٹرول صوبے کے چیف ایگزیکٹو پاس ہو 2013ء کے جعلی حکمرانوں نے بلوچستان میں اپنے من پسند افراد کو فوقیت دے کر سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کیں جس کی وجہ سے تعلیم نظام مزید بدحالی کا شکار ہو گیا ۔