سپریم کورٹ نے میمو گیٹ سکینڈل کے حوالے سے کیس میں معروف قانون دان احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کردیا

بدھ مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے میمو گیٹ سکینڈل کے حوالے سے کیس میں معروف قانون دان احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کردیا ہے ،بد ھ کوچیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے حسین حقانی کی گرفتاری سے متعلق انٹرپول کے جواب کے بارے استفسار کیا تو ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ ا س معاملے پر امریکی حکام سے بات ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا انٹرپول نے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے انکار کیا ہے اور اگرکوئی شخص امریکی سپریم کورٹ کوبیان حلفی دیکر پیش نہ ہوتوپھرکیا ہوگا ، کیا گرفتاری مانگنے پر پاکستان بھی انکارکرسکتا ہے،اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ انٹرپول میں 5 بھارتی موجود ہیں مگر وہاں پاکستان کی کوئی نمائندگی نہیں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے، ا ن کاکہناتھا کہ پہلے انٹر پول میں پاکستان کا ایک نمائندہ افسر موجود ہوتا تھا مگر اب وہ نہیں ہے ،وہی ملکی مفادات اور موقف کا خیال کرتا تھا ،ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو مزید بتایا کہ حسین حقانی کی حوالگی اورچار ارب روپے کی کرپشن کے الزام سے امریکا کو آگاہ کردیا گیا ہے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے ان کا ایک شہری بھی پاکستان کے پاس ہے، بعدازاں عدالت نے احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔