بلوچستان ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں حکومت بلوچستان کو کسی بھی انفرادی سکیم شروع کرنے سے روک دیا

بدھ مئی 23:50

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس جناب جمال خان مندوخیل نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام(پی ایس ڈی پی) اور سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (ایس ڈی آئی) کے حوالے سے محمد عالم و دیگر مد مقابل چیف سیکریٹری بلوچستان و دیگر کے کیسوں پر اپنا فیصلہ گزشتہ روز سنایا ۔ اپنے فیصلے میں جسٹس جناب جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور فیصلوں کی روشنی میں حکومت بلوچستان کو کسی بھی انفرادی سکیم شروع کرنے ، کسی بھی ایس ڈی آئی سکیم شروع کرنے سے حکومت بلوچستان کو فی الفور روک دیاہے۔

اپنے فیصلے میں فاضل جج نے سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اورصوابدیدی فنڈکو موجودہ حالت میں منجمد کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو غیر استعمال شدہ رقوم کی واپسی اور مزید رقم جاری نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

(جاری ہے)

اپنے فیصلے میں فاضل جج نے یہ بھی کہا ہے کہ مذکورہ فیصلے سے موجودہ پی ایس ڈی پی میں منظور شدہ اسکیمیں متاثر نہیں ہو ں گی ۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں حکومت کو یہ بھی تاکید کی ہے کہ وہ آئندہ پی ایس ڈی پی سپریم کورٹ پاکستان کے احکامات اور فیصلوں کی روشنی میں تیار کرے ۔

واضح رہے کہ اپنی درخواست میںدرخواست گزار محمد عالم و دیگر نے موقف اختیار کیا تھا کہ پی ایس ڈی پی اور ایس ڈی آئی میں حکومت نے خطیر رقم مکمل تفصیل کے بغیر مختص کی ہے جوکہ پلاننگ کمیشن پاکستان ، بلوچستان گورنمنٹ رولز 2012 کے مطابق نہیں ہے۔