وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور اعلیٰ سول و فوجی حکام کی شرکت

جمعرات مئی 00:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) قومی سلامتی کمیٹی کا 21واں اجلاس بدھ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال،، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ،، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی نے افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام افغانستان کے اپنے بھائیوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا حالیہ دورہ افغانستان دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے اہم قدم تھا ۔

ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے اجلاس کو 24 اپریل 2018ء کو مشترکہ مفادات کونسل سے منظور ہونے والی واٹر پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم اور چاروں وزراء اعلیٰ کی طرف سے دستخط شدہ واٹر چارٹر کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی کے مشاہدے میں آیا کہ یہ ایک اہم کامیابی ہے اور اس پر مناسب عملدرآمد پاکستان کو درپیش پانی کے بحران کے شدید خطرے سے نمٹنے کیلئے ایک اہم اقدام ثابت ہو گا۔

کمیٹی نے واٹر ریسورسز ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو عالمی بینک کے ساتھ بھرپور انداز میں پیروی کرے۔ وزیر خزانہ ریونیو و اقتصادی امور نے کمیٹی کو پاکستان کی گزشتہ پانچ سالہ معاشی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شرح نمو کے حوالے سے حکمت عملی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ترقی کا عمل اطمینان بخش ہے اس کے ساتھ ساتھ غیر مستحکم ہونے والے عناصر سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے ایف اے ٹی ایف کے سٹیٹس کا بھی جائزہ لیا اور پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں کی گئی پیش رفت کو سراہا۔ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو وزارت کی جانب سے تشکیل دی گئی ویزہ رجیم سہولیات کیلئے کئی اقدامات سے آگاہ کیا۔ بالخصوص سیاحوں، طالب علموں اور طبی معالجے کیلئے پاکستان سفر کرنے والے افراد کے احترام میں اقدامات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ وزارت خارجہ امور کے ساتھ رابطہ کر کے جلد از جلد نئی پالیسی کو حتمی شکل دے کر متعارف کروائے۔

اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے انتظامی اصلاحات کے مجوزہ پیکیج کا بھی جائزہ لیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ سفارشات کو حتمی شکل دینے سے قبل گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی خواہشات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے نئے انتظامات کی مطابقت کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے بحیرہ ہند کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور سیکورٹی برقرار رکھنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے۔