آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں مختلف قراردادیں پیش

جمعرات مئی 00:10

مظفر آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں وزراء اور ممبران اسمبلی نے مختلف قراردادیں پیش کیں جن میں مقبوضة کشمیر میں جاری مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوا م پر بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ملکی و غیر ملکی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے ہمیں کوششوں کی مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں حکومت کو اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سابق دور میں آل پارٹیز کوآڑڈینیشن کونسل بنائی گئی تھی جس کا احیاء ہو نا چاہیے ۔

(جاری ہے)

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آزاد کشمیرکی تمام سیاسی جماعتیں متحد و متفق ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک بھارت میںچلنے والی دیگر علیحدگی کی تحریکوں سے مختلف ہے کیونکہ خو د بھارت مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لیکر گیا۔ ہمارا کیس دنیا میں تسلیم شدہ ہے ان قراردادوں میں ہمارا کردار متعین شدہ ہے ، ہم سب کو اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

پیر علی رضابخاری کی آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے پیش کی گئی قرارداد پر چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ اس قرارداد سے پیر علی رضا بخاری کی سیاسی بصیرت جھلکتی ہے۔ آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ میں کئی طرح کی رکاوٹیں درپیش ہیں جن میں انفراسٹرکچر کی ترقی بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ دفاع آزادحکومت کا اختیار نہیں تاہم اس معاملہ کو یکسو کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے بات چل رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ این جی اوز ، ڈونرز اور بیرون ملک رہنے والے کشمیریوں کو اپنے دوستوں کو یہاں لانے میں دشواریوں کا سامنا ہے تاہم ہمیں دفاعی ایشوز کو بھی دیکھنا ہے ۔ سیاحت کے فروغ میں غیر ضروی بندشوں کو ختم ہو نا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہے ہوں کہ آزادحکومت اس معاملہ میں اعلیٰ سطح پر آگاہ کریگی اور اس مسئلہ کو حلر کرنے کی کوشش کریگی ۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے قرارداددوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ میں تمام قراردادوں کی مکمل تائید و حمایت کرتا ہوں ۔ 18اپریل کو لندن میں ہونے والا مظاہرہ بہت حوصلہ افزا تھا اور اب جبکہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل رہا ہے تو ہمیں اپنا مرکز برسلز اور نیویارک میں بنانا چاہیے اور وہاں بھی ایسے ہی مظاہروں کا اہتمام کرنا چاہیے ۔

انہوں نے پونچھ میں جاری دھرنے کے متعلق ضمناً کہا کہ وہاں انتظامیہ کو تبدیل کر کے اہل آفیسران تعینات کرنے چاہیں ۔ وزیر خوراک سید شوکت شاہ اور ممبر اسمبلی نسیمہ وانی نے کہاکہ میں تمام قراردادوں کی حمایت کرتا ہوں ۔ ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم نے اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے حوالے سے کئی نکات بہت حوصلہ افزا ء ہیں جن میں بھارت کی طرف سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے حوالے سے خبروں کا آنا ہے ۔

انہوں نے نے کہاکہ ایسی خبروں سے تاثر ملتا ہے کہ بھارت اس مسئلہ کو حل کرنے میں ابھی تک ناکام ہے ۔ حکومتی کارکردگی پر انہوں نے کہاکہ این ٹی ایس کے تحت ملازمتوں کیلئے امتحان حکومت کا اچھا اقدام ہے تاہم کابینہ میں اضافے کے فیصلے پر انہوں نے تنقید کی ۔ ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہاکہ تحریک آزادی کے حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا چاہیے ۔

وزیر اعظم پاکستان کے دورہ مظفرآباد سے تحریک آزادی کو تقویت ملی اور پار ایک اچھا پیغام گیا۔ انہوں نے آزادکشمیر میں غیر ملکیوں کیلئے این او سی کی شرط ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ اس این او سی کے حوالے سے ہمارے ترکی کے دوست ناراض ہیں ترکی کے دوستوں نے 2005کے زلزلہ کے بعد یہاں متاثرین کی بہت مدد کی اور مزید بھی کرنا چاہتے ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ اس قدغن کی وجہ سے ہم آزادنہ طور پر سفارتکاروں کو بھی نہیں لا سکتے جس کا اچھا پیغام نہیں جاتا ۔ ایوان کو اس مسئلہ کا نوٹس لینا چاہیے ۔ ممبر اسمبلی سردار عتیق احمد خان نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں ۔ انہوں نے برطانیہ کے نئے وزیر داخلہ کو منصب سنبھالنے پر کشمیری عوام کی جانب سے مبارکبادبھی دی ۔ آخر میں ایوان نے وزیر قانون کی سربراہی میں تمام قراردادوں کو یکجا کر ایک ہی مسودہ ترتیب دینے کیلئے کمیٹی بنا دی۔