مقبوضہ کشمیر کے صحافی انتہائی مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں

1989سی10صحافی جاں بحق‘ رپورٹ

جمعرات مئی 11:20

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطرناک مقامات میں شامل ہے جہاں پریس اور میڈیا سے وابستہ افراد انتہائی مشکل حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جمعرات کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کی جاری جدوجہد آزادی کے دوران اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں1989ء سے اب تک10صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں، جاںبحق ہونے والے صحافیوں میں شبیر احمد ڈار، مشتاق علی، غلام محمد لون، غلام رسول آزاد، محمد شعبان وکیل، پرویز محمد سلطان، مشتاق احمد اور ایک خاتون صحافی آسیہ جیلانی شامل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے صحافیوں پر تشدد، اغواء، قاتلانہ حملے اور انہیںجان سے مارنے کی دھمکیاں دینا روزکا معمول بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

اس ظلم و تشدد کی وجہ سے صحافیوں کیلئے مقبوضہ علاقے میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں کئی صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوچکے ہیں اور بعض کو فوجیوںنے جھوٹے الزامات کے تحت نظربند کردیا۔

بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ سال 4مارچ کو ایک کشمیری فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف کو پلوامہ میںایک احتجاجی مظاہرے کے دوران بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر گرفتار کرلیا اور بعدازاں اسے نئی دہلی منتقل کردیاگیا۔ کامران رواں سال 14مار چ کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے رہا ہوا۔ پولیس نے گزشتہ سال 16مارچ کو کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی کی حیدر پورہ میں واقع رہائش پر صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹوں توصیف مصطفی ، مبشر خان ، فاروق جاوید خان ، عمر شیخ اور شعیب مسعودی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جو وہاں ایک پریس کانفرنس کی کوریج کیلئے گئے تھے ۔

فری لانس فرانسیسی صحافی کومیتی پال ایڈورڈ کو بھارتی پولیس نے گزشتہ سال انسانی حقوق کے بین الاقوامی دن کے موقع پر سرینگر میں پیلٹ گن کے زخمیوں کی ویڈیو بناتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا ۔ ایڈورڈ نے بعد ازاں ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ کشمیریوں کو بھارتی فورسز کے ہاتھوںبدترین فوجی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے اور بھارت نہیں چاہتا ہے کہ یہ تمام مظالم عالمی برادری کے سامنے آئیں ۔

گزشتہ ماہ کی تیرہ تاریخ کو سرینگر کے علاقے صفاکدل میں ایک انگریزی روزنامے کے ڈرائیور بلال حمد اور ایک اور ملازم فاروق احمد کو بھارتی فوجیوںنے گاڑیوں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیںاشتہارات کے ذریعے اخبارات کی آمدنی پر سرکاری کنٹرول کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کو حکومتی پالیسی کے تحت لانے کیلئے دبائو بڑھایا جارہا ہے ۔

فیڈریشن نے’’کشمیری میڈیاخطرات سے دوچار ،صورتحال پر مبنی رپورٹ ‘‘کے عنوان سے برسلز میںجاری رپورٹ میں کہاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں انتظامیہ اور بھارتی فورسز اطلاعات کو کنٹرول کر رہے ہیں اور ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر قدغن عائد کر دی جاتی ہے اور پولیس اور بھارتی فوج سے واقعات کے بارے میں انکا موقف جانے کا کوئی طریقہ موجو دنہیں ہے۔کٹھ پتلی انتظامیہ وادی کشمیرمیں پر تشدد کارروائیوں اورنوجوانوں کی شہادت کے بعد موبائیل انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس بند کر دیتی ہے ۔

یاد رہے کہ 8جولائی2016ء کو معروف کشمیری رہنماء برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی قابض انتظامیہ نے کئی ماہ تک وادی کشمیر میں موبائیل اور انٹر نیٹ سروس اور کیبل ٹی وی سمیت اطلاعات تک رسائی کے تمام ذرائع پر شدید قدغن عائد رکھی ۔ انتظامیہ نے اخبارات کی اشاعت پر پابندی کردی اور پولیس نے میڈیا ہائوسز پر چھاپے مار کر سرینگر سے جاری ہونیوالے روزناموں کے پرنٹنگ پریس کوبند کردیا تھا ۔انتظامیہ نے انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کوتین ماہ تک بند رکھا ۔