ریاست کا ایک ستون ملک پر قابض ہے ‘ عام انتخابات میں مقابلہ سیاسی جماعتوں سے نہیں بلکہ نظرنہ آنے والی قوتوں سے ہے۔نوازشریف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 11:26

ریاست کا ایک ستون ملک پر قابض ہے ‘ عام انتخابات میں مقابلہ سیاسی جماعتوں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 مئی۔2018ء) مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف نے کہا ہے ریاست کا ایک ستون ملک پر قابض ہے ‘ عام انتخابات میں مقابلہ پیپلزپارٹی یا پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ نظرنہ آنے والی قوتوں سے ہے۔۔اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ صحافت کے ساتھ ساتھ ہمارا گلا بھی دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمارا مقابلہ پیپلزپارٹی یا پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہے، خلائی مخلوق اپنی مرضی کی پارلیمنٹ لانے میں مصروف ہے، یہاں مغل بادشاہی کا دورنہیں ہے کہ ہرچیز ایک ہاتھ میں ہو اورریاست کے تین ستون ہوتے ہیں جس پر ایک ستون نے قبضہ کر لیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب کا بیان مختلف چینلز اور اخبارات پر بریکنگ کے طور پرآیا، اگر زرداری صاحب نے بیان نہیں دیا توبریکنگ کس کے کہنے پر چلائی۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے کہا کہ آج پوچھنا چاہتا ہوں کہ پارلیمنٹ اور گورنمنٹ کی رٹ کہاں ہے، جب مجھے پارٹی صدارت سے نکالا گیا تو وہ کس طرح سے قانونی تھا۔۔نوازشریف نے کہا کہ نیب کہہ رہا ہے ان کا سورج پورے ملک میں چمک رہا ہے لیکن سندھ میں لوگوں کواستثناءدیا جا رہا ہے۔

2014 کے دھرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے پاس بہت کچھ ہے جو ابھی منظرعام پر نہیں آیا، دھرنے کے بارے میں بہت سے حقائق ہیں جو جلد منظرعام پرآجائیں گے۔دوسری جانب احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں موجود ہیں۔ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے آخری گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر خواجہ حارث کی دوسرے دن بھی جرح جاری ہے۔خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز گواہ پر جرح کریں گے۔یاد رہے گزشتہ سماعت پر تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے اپنے بیان میں بتایا مریم نواز کی جے آئی ٹی میں جمع کرائی گئیں ٹرسٹ ڈیڈز جعلی ثابت ہوئیں، 28 مارچ 2018 کو ریکارڈ کی نقول میرے حوالے کی گئیں۔

ریکارڈ میں لینڈ رجسٹری، لندن فلیٹ، یوٹیلیٹی بلز، کونسل ٹیکس دستاویزات شامل تھیں، ریکارڈد رخواست کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔گواہ کا کہنا تھا دوران تفتیش نواز شریف بطور پبلک آفس ہولڈ ر ایون فیلڈ پراپرٹیز کے مالک پائے گئے۔ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے ملزمان کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہیں، ملزمان لندن جائیداد خریدے جانے کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔