بھارتی حکمران کشمیریوں نوجوانوںکو شہید اور بصارت سے محروم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں، یاسین ملک

ْپیلٹ گن سے متاثرہ کشمیریوں کی عیادت کیلئے صدر ہسپتال سرینگر کے دورے کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 12:11

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی حکمران کشمیری نوجوانوںکو جان سے مار ڈالنے ، زخمی کرنے اور انہیں بصارت سے محروم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یاسین ملک نے ان خیالات کا اظہار صدر اسپتال سرینگر میں بھارتی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال سے زخمی ہونیواے کشمیریوں کی عیادت کے دوران کیا۔

انہوںنے کہاکہ بھارتی حکمران اور انکی مقامی کٹھ پتلیاں کشمیری نوجوانوںکے خون کے پیاسے ہیں اور ان کوجان سے مار ڈالنے اور بصارت سے محروم کرنے کی پالیسی پر گامز ن ہیں تاکہ وہ عمر بھر کیلئے ناکارہ ہو جائیں۔ یاسین ملک نے کہا کہ تاریخ کے صفحات پر موجودہ حکمرانوں کو قاتل اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو اندھا بنانے والوں کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ ہزاروں لوگوں کو تہہ تیغ کیا ہے بلکہ پیلٹ گن کے ذریعے ہزاروں کشمیریوں کی بصارت بھی چھین لی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک ہتھیار جو جانورو ں اور پرندوں کے شکار کیلئے استعمال ہوتا ہے کو کشمیر میں انسانوں کو قتل ، عمر بھر کیلئے معذور اور بینائی سے محروم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور حیران کن طور پر عالمی برادری اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ یاسین ملک پارٹی رہنمائوںشوکت احمد بخشی، بشیر احمد کشمیری اور امتیاز احمد کے ہمراہ صدر ہسپتال پہنچے اور وہاں متعدد زخمیوں کی عیادت کی ۔

انہوںنے انکی خیریت دریافت کی اور ان کے غم زدہ اور تباہ حال اہلخانہ کی ڈھارس بندھائی۔ انہوں نے زخمیوں کے علاج پر مامور ڈاکٹروں سے بھی ان کے علاج معالجے اور صحت کی صورت حال پر مفصل گفتگو کی۔ان زخمی افراد میں سے اکثر بھارتی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال کا شکار ہوکر بصارت سے مکمل یا جزوی طور پر محروم ہوچکے ہیں جبکہ کئی افرادگولیاں لگنے کی وجہ سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔درایں اثناء لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند رہنماء نور محمد کلوال جو 6اپریل سے مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں کو کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن سے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔متعدد مقدمات میںضمانت پر رہائی کے عدالتی احکامات کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا ہے ۔