فیصل رضا عابدی توہین عدالت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

چیف جسٹس کا فیصل رضا عابدی کے وکیل سے مکالمہ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 11:50

فیصل رضا عابدی توہین عدالت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 03 مئی 2018ء) : سپریم کورٹ میں فیصل رضا عابدی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کیس کو کراچی منتقل کرنے کی استدعا کی جسے مسترد کر دیا گیا البتہ فیصل رضا عابدی کے وکیل کی بنچ تبدیل کرنے کی استدعا کو منظور کر لیا گیا۔

چیف جسٹس نے فیصل رضا عابدی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ فیصل عابدی کے وکیل نے چیف جسٹس سے مقدمہ نہ سننے کی درخواست کی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دونوں متفرق درخواستیں مسترد کر دی ہیں، اب بتائیں ۔ فیصل رضا عابدی کے وکیل نے جواب دیا کہ کیا اب میں یہ سمجھوں کہ بغیر سنے ہی میرا حق تاحیات ختم ہو گیا ہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آپ کا نام بطور وکیل درخواست پر نہیں لکھا، کیا آپ کا نام ضابطہ دیوانی (قانون کی کتاب) میں لکھا ہے جو ہمیں پتہ ہوگا؟ وکیل نے کہا کہ میرا نام آئین پاکستان میں بھی نہیں لکھا ۔

(جاری ہے)

جس پر جسٹس عمر عطا نے کہا کہ دلائل دیں کمنٹ نہ کریں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں؟ جس پر فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کہا کہ آپ مجھے نہیں جانتے؟ آپ ہی نے لائسنس دیا تھا، میں آپ ہی کا شاگرد ہوں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔ فیصل رضا عابدی کے عدالت میں کھڑے ہونے کے انداز پر بھی عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل رضا عابدی کی پروگرام میں کی گئی گفتگو چلوا لیتے ہیں جس پر عدالت میں فیصل رضا عابدی کی توہین بیانات پر مبنی ویڈیو بھی چلائی گئی۔ سماعت کے دوران فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کسی دوسرے بینچ میں کیس سننے کی درخواست کر دی جس پرعدالت نے فیصل رضا عابدی توہین عدالت کیس دوسرے بینچ میں لگانے کا حکم دے دیا۔